پنچایتی انتخابات

 ریاست بھر میں اس وقت پنچایتی انتخابات کو لے کر ایک ہنگامہ خیز صورت حال بنی ہوئی ہے۔ کہنے کوبے شک پنچایتی انتخابات کو غیر سیاسی طور انجام دینے کی باتیں کی جارہی ہیںاور یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ پنچایتی انتخابات کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں،مگر حق یہ ہے کہ ایسی باتوں پر تو ہنسی آتی ہے یا پھر تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے کیونکہ اس بات میں ذرہ برابر بھی حقیقت نہیں کہ پنچایتی انتخابات کا سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ سیاست کی پہلی سیڑھی پنچایتی انتخابات میں شرکت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ پنچایتی راج ایک وقت چونکہ سیاست سے ماوراء ایک آزاد ادارہ ہوا کر تا تھا اور ماضی میں واقعی اس ادارے میں سیاست کا کوئی عمل داخل نہیں تھا، تب جا کر عوام متفقہ طور کسی ایک باشعور انسان کو اپنا پنچایتی رہبر بنا لیتے تھے، پھر اُس رہبر کی ہدایات پر عوامی مفاد میںعمل بھی کیاجاتا تھا۔ پنچایت میں عوام جسے رہبری کا تاج پہناتے تھے وہ حقیقی معنوں میں اُس قابل ہوتا تھا، وہ ایک باشعور، سچا اور بے باک ومخلص انسان ہواکرتا تھا ،وہ خوف ِ خدا اور انصاف کے تقاضوں کو مد ِ نظررکھتے ہوئے کوئی بھی عوامی مفاد کام سر انجام دیا کرتا تھا۔ ماضی میںپنچایتی راج کا ایک خوشگوار دور تھا جس کی مثال موجودہ دور کے پنچایتی نظام میں کہیں دور دور تک بھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ موجودہ دور میں پنچایتی ادارہ اس قدر سیاست زدہ ہو چکا ہے کہ بغیر سیاسی عمل دخل کے امیدواروں کا میدان میں آنا ایک نا ممکن سی بات ہے۔ جس طرح اسمبلی انتخابات میں لوگ حصہ لیتے ہیں اور انتخابی مہم چلاتے ہیں، اسی طرح پنچایتی انتخابات میں بھی لوگ انتخابی مہم چلانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ حد تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے پنچایتی انتخابات میں اس حد تک اپنی دخل اندازی جاری رکھی ہوئی ہے کہ ایم ایل اے صاحبان بھی گھر گھر جا کر عوام سے پنچ اور سر پنچ کے لئے ووٹوں کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ رواں پنچایتی انتخابات میں دیکھا جائے تو بی جے پی زمینی سطح پر خود کو مضبوط کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے اپنا رہی ہے۔ رائے دہندگان کو خریدنے کا غیر جمہوری عمل بھاجپا نے اس انداز سے شروع کر دیا ہے کہ اب رائے دہندگان کا اس جان لیوا وباسے بچ پانا کافی دشوار نظر آرہا ہے۔ پنچایتی انتخابات میں بھاچپا کی دخل اندازی اس حد بڑھ رہی ہے کہ پیسوں کی بنیاد پر ہر پنچایت میں زیادہ سے زیادہ امیدواروں کومیدان میں اُتارا جاتا ہے ۔اس کا یہ نتیجہ نکل رہا ہے کہ عوام جس امیدوار کو اپنا مسیحا دیکھناچاہتے ہیں وہ ناکام ہو جاتا ہے، اور میدان کوئی اور ہی مار لیتاہے ۔یہ ایک انتہائی افسوس ناک اور قابل ِ رحم صورت حال ہے۔ 
پنچایتی انتخابات میں سیاسی مداخلت اس خوف ناک موڑ تک آ پہنچی ہے کہ نام نہاد سیاست کو اب خدا یا د آ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل کئی سیاسی لیڈران اب نمازی ہوگئے ہیں اور مساجد میں نماز ادائیگی کے فوراً بعد مکر وفریب کی حدیں پار کر کے اپنا دکھڑا چھیڑ دیتا ہے، طرح طرح کے حوالہ دے کر انتخابات میں ووٹ کے صحیح استعمال کرنے کا بھاشن دیتے ہیں اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے سادہ لوح لوگوں کے دل لبھانے کی مکارانہ ادا کاری کرتے ہیں ۔افسوس کہ سادہ لوح لوگ ایسے نام نہاد لیڈران کی مکاری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس بار عوام ہوش کے ناخن لے کر ان رنگے سیاروں کو پہچان لیں۔جو خود غرض مسلم لیڈر اپنی غلیظ سیاست چمکانے کے لئے مساجد میں سیاسی بھاشن دینے اور سیاسی باتیں کرنے سے گریز نہیں کرتے ،وہ جذبہ ٔ خدمت سے خالی لوگ ہے، سیاست ہی اُن کا دین اور مفاد ہی اُن کا ایمانہے ۔ایسے لوگ صداقت کے دشمن اور لٹ کھسوٹ کے طرف دار ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کیوں اس غلیظ سیاست کو ایمان اور ضمیر پر ترجیح دے کر اپنی عاقبت کو گنوا رہے ہو؟کیوں ووٹروں کوایک کھلونا سمجھ رکھا ہے؟ کیوں مردہ ضمیری سے اس قدرماؤف ہو کہ عبادت کی بجائے مساجدمیں جا کر سیاسی بھاشن دیتے ہو اور سادہ لوح لوگوں کو اپنی مکاری کا شکار بناتے ہو۔یہاں یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ اس طرح کے حالات پر ہمارے علمائے کرام کو خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے ۔ سادہ مزاج لوگوں کوسیاست کے ان فریب کارانہ اور ناپاک ہتھکنڈوں سے باہر نکالنے کے لئے علماء اور صلحاء حضرات کو اپنا کردار نبھانا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔اگر علمائے کرام نے فی الوقت ایسے اہم معاملات پر خاموشی اختیار کر رکھی تو لازماً فریبی اورمکار سیاست دان سادہ لوح لوگوں کو گمراہی کا شکار بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ اس لئے علمائے کرام کو چاہئے و ہ عوام کو ووٹ کے استعمال اور مساجد میںانتخابی مہم چلانے کے حوالے سے عوا م کو اصل وآداب سے آشنا کردیں  اور ضروری معلومات فراہم کریں تاکہ جو نام نہاد سیاست دان مساجد میں محض اس لئے جاتے ہیں کہ تاکہ وہ سادہ لوح لوگوں اپنی مکاری اور فریب کا شکار آسانی سے بنا سکیں۔اگر علمائے کرام نے بروقت ایسے حساس معاملات پر خاموشی اختیار کئے رکھی تو قوم کو گمراہی اور بے ہدایتی کی راہ پر جانے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاست میں بھاجپا مسلمانوں کو ہی مسلمانوں کے خلاف مہرہ بناکر استعمال کرنے کی سازشیں رچا چکی ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ریاست کے مسلمان بھاجپا کہ ان کھلی سازشوں کا شکار بڑی آسانی سے ہو رہے ہیں ۔ یہ ہماری اجتماعی بے حسی اور بے شعوری کی وہ مثالیں ہیں جو ہمیں ایک نہ ایک دن تباہی کے دہانے پر لا کر رہیں گی۔ یہ وقت ہے کہ ریاست کا مسلمان دشمن کی سازشوں اور مکاریوںکا شکار نہ ہو لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاست کے مسلمانوں میں ذہنی افتاد اور بالغ نظری مکمل طور سے مفقود ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ ملت کے وہ رہبر ہی خود سازشوں اور سنہرے سپنوںکا شکار ہو رہے ہیں جنہیں قوم نے اپنے تحفظ کے لئے چنا تھا۔ ایسی صورت حال میں مسلم دشمن سازشوں کا فروغ پانا بہت آسان کام بنا ہوا ہے ۔ مرکزی سرکار نے یہاں پنچایتی انتخابات کرواکر دنیا کو یہ باور کرانا چاہا ہے کہ ریاست میں بغیر سرکار کے بھی زمینی سطح پر تعمیر و ترقی کے باب رقم کئے جارہے ہیں، لوگ اپنی تقدیر آپ بدلنے میں آگے آگے ہیں لیکن کیا خدا را یہ بھی سوچئے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پیسوں کے بل بوتے پر جس اُمیدوار کو کامیاب کیا جائے وہ آگے کرپٹ ثابت نہ ہو؟ کرپشن کے ہتھکنڈوں سے لیس کر کے جس کسی اُمیدوار کو میدان میں اُتار کر عوامی رہبری کا تاج پہنایا جائے وہ کسی بھی قیمت میں ایک انصاف پسند اور ترقی پسند رہبر نہیں ہوسکتا۔ یہاں یہ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ بھاجپا ریاست میں سرکار کے بغیر پنچایتی راج کے تحت تعمیرو ترقی کے جو خواب دیکھ رہی ہے، اُن کا شرمندہ ٔ تعبیر ہونامشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے،کیونکہ زمینی سطح پر جب عوام اپنی مرضی کے مطابق کوئی نمائندہ چن ہی نہیں سکتی تو پھر تعمیرو ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونا ایک فضول خیال ہے۔
قابل غور امریہ بھی ہے کہ کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ آج کی سیاست مکر و فریب کا ہی دوسرا نام ہے، اس لیے شریف آدمیوں کو نہ سیاست میں کوئی حصہ لینا چاہیے، نہ الیکشن میں کھڑا ہونا چاہیے اور نہ ووٹ ڈالنے کے خرخشے میں پڑناچاہیے۔یہ غلط فہمی خواہ کتنی نیک نیتی کے ساتھ ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہو، لیکن بہر حال غلط اور قوم وملّت کے لیے سخت مضر ہے۔ ماضی میں ہماری سیاست بلا شبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک گہرا اور بدبو دار تالاب بن چکی ہے، لیکن جب تک کچھ صاف ستھرے لوگ اسے پاک کرنے کے لئے آگے نہیں بڑھیں گے، اس گندگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا اور پھر ایک نہ ایک دن یہ نجاست خود اُن کے گھروں تک پہنچ کر رہے گی جو سیاست سے کنارہ کشی کے فلسفے پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔ لہٰذا عقل مندی اور شرافت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ سیاست کی اس گندگی کو دور دور سے بُرا اور بداطوار کہا جاتا رہے، بلکہ عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو ان لوگوں کے ہاتھ سے چھین لینے کی کوشش کی جائے جو اپنے سفلی کردار اور منفی کارکردگی سے مسلسل اسے گندا کرتے جا رہے ہیں    ع 
شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات
9797110175