پنچایتی انتخابات کا چھٹا مرحلہ، وادی میں اب تک کی کم ترین شرح پولنگ

 انتخابی علاقوں میں مکمل ہڑتال ،جنوبی کشمیر میں کئی پولنگ مراکز پر پتھرائو اور شلنگ

 
سرینگر//پنچایتی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں وادی کے16بلاکوں میں انتخابات کے دوران اب تک کی سب سے کم پولنگ شرح رہی جو 17فیصد ریکارڈ کی گئی۔تاہم پوری ریاست میں76.9فیصد ووٹنگ شرح رہی۔پلوامہ اور شوپیاں کے3بلاکوں میں الیکشن نہیں ہوا۔اس دوران وادی میں103سرپنچوں اور501پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا،تاہم71سرپنچ اور1166پنچ نشستیں خالی رہیں۔اس دوران انتخابی علاقوں میں مکمل ہڑتال کے بیچ اننت ناگ کے کھاڈار کپرن،ر قمر شاہ آباد،شچن اور لارکی پورہ میں پتھرائو کے واقعات بھی پیش آئے،جس کے دوران شلنگ کی گئی۔

بانڈی پورہ

 ضلع بانڈی پورہ میں15سرپنچ اور107پنچ نشستوں پر انتخاب ہونا تھا،جس کے دوران 10سرپنچوں اور63پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔سنیچر کو4سرپنچ نشستوں پر10امیدواروں اور9پنچ نشستوں پر18امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

بارہمولہ

ضلع بارہمولہ کے3بلاکوںسوپور ،کھئے پورہ اور چندل وانی گام میں24سرپنچ نشستوں اور188پنچ وارڈوں میں انتخاب ہونا تھا،جس کے دوران12سرپنچ اور21پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ سنیچر کو ہوئے انتخاب کے دوران3سرپنچ نشستوں پر7امیدوار وں کے درمیان مقابلہ تھا۔ ان3بلاکوں میں مجموعی طور پر9سرپنچ نشستوں اور167پنچ وارڈوں میں کوئی بھی انتخاب نہیں ہوا۔

گاندربل

وسطی ضلع گاندربل میں لار بلاک میں24سرپنچ نشستوں اور180پنچ وارڈوں کا انتخاب ہونا تھا،جس کے دوران7سرپنچوں اور74پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔اس دوران15سرپنچ نشستوں پر44امیدوار جبکہ31پنچ وارڈوں پر70امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ گاندربل میں2سرپنچ نشستوں اور75پنچ وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں ہوا تھا۔

سرینگر

 ضلع سرینگر کے ہارون بلاک میں9 سرپنچ نشستوں اور79 پنچ نشستوں پر انتخاب ہونا تھا۔یہاں4سرپنچوں اور14پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔3سرپنچ نشستوں پر6امیدواروں جبکہ4پنچ نشستوں پر8امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔2سرپنچ نشستوں اور61پنچ وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں ہوا تھا۔
بڈگام
بڈگام ضلع کے چر ار شریف اور ناگام بلاکوں میں25سرپنچ نشستوں اور 181پنچ وارڈوں میں انتخاب ہونا تھا،جس کے  دوران15سرپنچوں اور87 پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ سنیچر کو4سرپنچ حلقوں پر 10جبکہ11پنچ وارڈوں پر23امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ ان بلاکوں میں6 سرپنچ نشستوں اور83پنچ وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار کھڑا نہیں ہوا تھا۔

اننت ناگ

اننت ناگ ضلع میں شاہ آباد بلاک ،ہلڑ بلاک اور ویری ناگ بلاک میں 52سرپنچ اور382پنچ نشستوں پر انتخاب ہونا تھا،جس کے دوران24سرپنچ اور156پنچ بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔سنیچر کو18سرپنچ  نشستوں پر41امیدواروں جبکہ12پنچ نشستوں پر25امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا۔10سرپنچ نشستوں اور214پنچ وارڈوں میں کوئی بھی انتخاب نہیں ہوا۔۔اس بیچ ڈورو حلقے کے کئی پولنگ مراکز پر نوجوانوں نے سنگ باری کی جس کے سبب فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولے داغے۔اس بیچ نوگام ،کھاڈار اور قمر شاہ آباد،شچن اور لارکی پورہ میں پتھرائو کے واقعات پیش آئے ،جس کے سبب پولنگ عملہ میں خوف وہراس پھیل گیا۔کھاڈار کپرن میں مشتعل نوجوانوں نے پولنگ مرکز پر چوطرفہ پتھرائو کیا جس کے جواب میں یہاں فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولے داغے ۔قمر شاہ آباد میں نوجوانوں نے چند رائے دہندگان کو مارا پیٹا ۔ 

کولگام

کولگام کے دیوسر اور پہلو بلاکوں میں38سرپنچ نشستوں اور302پنچ وارڈوں میں انتخاب ہونا تھا،جس کے دوران20سرپنچ اور61پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔سنیچر کو6سرپنچ نشستوں پر12امیدوار جبکہ5پنچ وارڈوں میں11امیدوار کھڑے تھے۔مجموعی طور پر12سرپنچ نشستوں اور236پنچ وارڈوں میں کوئی بھی انتخاب نہیں ہوا۔

پلوامہ و شوپیاں

جنوبی ضلع شوپیاں میں پنچایتی انتخابات کے اس مرحلے میں ایک بار پھر ووٹ نہیں ڈالے گئے۔ضلع کے چتر گام بلاک میں11سرپنچ نشستوں اور91پنچ وارڈوں میں انتخاب ہونا تھا،جس کے دوران5سرپنچ اور17پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ اس دوران6 سرپنچ اور74پنچ وارڈوں میں کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں آیا۔پلوامہ میں بھی سنیچر کو کوئی بھی الیکشن نہیں ہوا۔ضلع کے نیوہ اور ڈاڈسرہ بلاکوں میں29سرپنچوں اور229پنچوں کا انتخاب ہونا تھا،جس کے دوران6سرپنچوں اور8پنچوں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔23سرپنچ اور221پنچ نشستوں پر انتخاب نہیں ہوا۔