پنچایتی اداروں کو مستحکم بنانے کے دعوے بے سود

ڈوڈہ //آل جموں و کشمیر پنچائت کانفرنس نے پنچائتی اداروں کو مضبوط بنانے کے ایل جی انتظامیہ کے دعوؤں کو بے سود قرار دیتے ہوئے کہا کہ آفسر شاہی کے اس دور میں پروٹوکول کے نام پر  بی ڈی سی و پنچائتی اراکین کے ساتھ بھید بھاؤ کیا جارہا ہے۔پنچائت کانفرنس کے صوبائی نائب صدر و بی ڈی سی چیئرمین گندنہ سرشاد احمد نٹنو نے کشمیر عظمیٰ سے بات چیت کے دوران ضلع رام بن میں گذشتہ دنوں پچاس کے قریب پنچائتی نمائندگان کی طرف سے استعفیٰ دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی و یوٹی انتظامیہ نے پنچائتی راج کو مستحکم بنانے بی ڈی سی چیئرپرسن و سرپنچوں و پنچوں کو تمام تر اختیارات دینے کی کاغذی مشق کی گئی لیکن زمینی سطح پر ان احکامات کو لاگو نہیں کیا گیا اور آئے سرکاری ملازمین کی طرف سے ان کے ساتھ غیر اخلاقی برتاؤ کے واقعات سامنے آتے ہیںجس کی وجہ سے پنچائتی نمائندگان تنگ کر استعفیٰ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی انہیں عوامی مسائل کو لے کر ڈی سی و دیگر آفیسران کے پاس جاتے ہیں تو کئی گھنٹوں تک انہیں باہر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی نائب صدر نے کہا کہ حکومت اگر چہ پنچائتی اداروں کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے کیلئے کوشاں ہے لیکن آفیسر و سرکاری ملازمین اپنی من مانی کر کے غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے ہیں اور نہ ہی عوامی مسائل کے حل کیلئے مؤثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔پنچائت کانفرنس کے صوبائی نائب صدر نے کہا کہ 2018 کے پنچائتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے بائیکاٹ کرنے کے باوجود عوام نے بھاری اکثریت سے ووٹ ڈال کر انہیں کامیاب بنایا تھا لیکن ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر انتظامیہ نے اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا تو وہ استعفیٰ پیش کریں گے جس کیلئے ضلع انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔