پنچایتوں کی حد بندی جمہوریت کا قتل

 جموں // نیشنل کانفرنس نے ریاستی سرکار پر سرینگر اور اننت ناگ پارلیمانی نشستوں کے ضمنی انتخابات ٹالنے کے مقصد سے پنچایتوں کی ’من مانے ڈھنگ سے ‘حد بندی کروانے کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مداخلت کر کے جموں کشمیر میں ’جمہوریت کے قتل‘ کو روکنے کی مانگ کی ہے ۔پارٹی کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ڈی پی اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ وہ وادی میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور اب اس میں رائے دہندگان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہی ہے ،ممکنہ شکست کو سامنے دیکھتے ہوئے پی ڈی پی بی جے پی سرکار نے پنچایتوں کی حد بندی کی مشق شروع کر دی ہے ۔‘‘رانا نے کہا کہ سرکار الیکشن کمیشن کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے مدِنظر بیک وقت دو کام نہیں کئے جا سکتے ، لیکن اگر پارلیمانی انتخابات کے لئے حالات ٹھیک نہیں ہیں تو پنچایتی انتخابات کیلئے کیوں کرماحول ساز گار ہو سکتا ہے ‘۔انہوں نے کہاکہ پنچایتی انتخابات ضمنی چنائو سے بڑی مشق ہے جس میں ریاست کے تینوں خطے ملوث ہوں گے جبکہ پارلیمانی الیکشن صرف دو نشستوں پر کروائے جانے مطلوب ہیں،اس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ پنچایتوں کی حد بندی کا عمل حکمران اتحاد کے سیاسی فوائد و نقصانات کو مدِنظر رکھ کر ہاتھ میں لیا گیا ہے ۔ تاہم رانا نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس پنچایتی اور لوک سبھا ضمنی چنائو کے لئے پوری طرح تیار ہے لیکن حکومت جس طرح جمہوری نظام کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے وہ ناقابل قبول ہے ۔’’پی ڈی پی اور بی جے پی ممکن ہے لوگوں کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہوں لیکن نیشنل کانفرنس ہمیشہ لوگوں کی عدالت میں جانے کے لئے تیار رہتی ہے ،چاہے وہ پنچایتی چنائو ہوں یا اسمبلی اور لوک سبھا کے انتخابات‘‘۔انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج ایکٹ کے مطابق جس برس انتخابات ہونے ہوں اس سال یکم جنوری کی فہرست رائے دہندگان کے مطابق الیکشن ہونے چاہئیںلیکن ریاستی حکومت نے اس ایکٹ کا تقدس بھی پامال کر دیا ہے ۔