پنشنروں کو دستاویزات جمع کرنے کیلئے

سرینگر// اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر میں فارمولیشن11کے تحت پنشن معاملات حل کرنے کے لئے دستاویز جمع کرنے کی خاطر پنشنروں اور فیملی پنشنروں کو درپیش مشکلات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پنشن کے معاملات متعلقہ پنشن سینکشنگ اتھارٹی/ ہیڈ آف دی آفس کی وساطت سے اے جی کے دفتر کو بھیجے جانے چاہئیں۔ حکومت نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ پنشن معاملات کے دستاویزات پنشنروں یا فیملی پنشنروں کو براہِ راست نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ محکمہ خزانہ کی جانب سے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم جنوری2016 ء سے پہلے کے پنشن معاملات طے کرنے کے لئے پنشن سینکشنگ اتھارٹیز/ ہیڈ آف دی آفس سے آرڈر نمبرA/ Misc(2008)- Tepm-1236 بتاریخ 14-06-2018 کی رو سے کہا گیا ہے کہ وہ پنشن سے جڑے دستاویزات از خود سرینگر اور جموں میں قائم اے جی آفس کو بھیجیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ دستاویزات اے جی افس کو بھیجنے کے بجائے پنشن سینکشنگ اتھارٹیز/ ہیڈ آف دی آفس پنشنروں اور فیملی پنشنروں کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں جس کے نتیجے میں بُزرگ شہری ایسی مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن کو کم کیا جاسکتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملہ کا محکمہ خزانہ نے سنجیدہ نوٹس لے کر باریکی بینی سے جائیزہ لیا ہے اور متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔بیان کے مطابق صدر ٹریجری افسر/ ضلع ٹریجروں افسروں کو اس بات کا مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ پنشنروں اور فیملی پنشنروں کے ضروری دستاویزات اے جی آفس سرینگر/ جموں کو بھیج دیں۔