پنجاب میں کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے ریل خدمات معطل

  تین دن سے درماندہ مسافر حالات کے رحم و کر م پر،کوئی پرسان حال تک نہیں

 جموں//پنچاب میںکسانوں کے احتجاج کی وجہ سے ٹرین سروس گزشتہ کئی روز سے بند ہے جبکہ جموں میں مسلسل ریل خدمات معطل رہنے کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں مسافر جموں میں پھنس گئے ہیں جن میں سے سینکڑوں دن رات ریلوے سٹیشنوں پر ریل خدمات کی بحالی کا انتظار رکرہے ہیں جن میں خواتین، بچے اور بزرگ مسافر بھی شامل ہیں ۔عام مسافروں اور خاص کر ویشنو دیوی یاتریوں کو ٹرینوں کی منسوخی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف حکام کہہ رہے ہیں کہ ٹرین خدمات کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔پڑوسی ریاست پنجاب میں کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے جموں سے ٹرین خدمات تیسرے روز بھی متاثر رہیں۔ کچھ ٹرینیں تو چل رہی ہیں لیکن تاخیر کے موڈ میں ہیں۔ عام مسافروں اور خاص کر ویشنو دیوی یاتریوں کو ٹرینوں کی منسوخی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ دوسری طرف حکام کہہ رہے ہیں کہ ٹرین خدمات کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔کملا دیوی مسلسل تین دن سے اپنے نابالغ بچے اور شوہر کے ساتھ جموں ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ ہال میں بیٹھی ہیں۔ اتراکھنڈ کے نانیال علاقہ سے تعلق رکھنے والی کملا ایک ہفتہ قبل وینشو دیوی یاترا کے لیے کٹرا آئی تھی اور ہفتہ کو جموں سے اپنے آبائی گھر کا ٹکٹ لے رہی تھی۔ لیکن وہ ٹرینوں کی منسوخی کی وجہ سے تین دن سے جموں ریلوے اسٹیشن پر پھنسی ہوئی ہے۔ پڑوسی صوبہ پنجاب میں کسانوں کی ہڑتال کی وجہ سے جموں سے زیادہ تر ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں یا بہت تاخیر سے چل رہی ہیں۔ کملا کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے ختم ہو رہے ہیں اور انہیں موجودہ گرم اور مرطوب موسمی حالات میں دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کملا دیوی نے بتایا کہ جب میں نے اپنے آبائی شہر واپس جانے کے لئے ٹکٹ لیا تھا ، تب مجھے ریلوے کے کسی بھی ملازم نے نہیں بتایا کہ ٹرینیں نہیں چل رہی ہیں۔ آج مجھے پورے تین دن ہو گئے ریلوے اسٹیشن پہ بیٹھ کے ٹرین کا انتظار کرتے ہوئے۔ ہمارے پاس جو پیسے تھے وہ سارے ختم ہو گئے ہیں۔ ہم نے صرف ضرورت کے حساب سے اپنا خرچ لایا تھا ، لیکن ہرتال کی وجہ سے ہمیں یہاں اسٹیشن پہ بیٹھنا پڑ رہا ہے۔
ایک اور بیرونی ریاست کے مسافر آلوک شرما نے کہا کہ پچھلے تین دنوں سے ہم یہاں اسٹیشن پر ہم بیٹھے ہوئے ہیں ، نہ ریلوے اتھارٹی نہ جموں انتظامیہ ہماری خبر لینے کو آیا۔ ہمارے پاس جتنے پیسے تھے وہ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگے ہیں۔ کھانا ہمیں باہر سے کھانا پڑتا ہے اور ہوٹل والے بھی ہماری اس مجبوری کا بخوبی فائدہ ا±ٹھا رہے ہیں۔ ہمیں اپنی جیبوں کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ اب ہمیں دن میں ایک ہی بار کھانا نصیب ہوگا اور کافی شرم کی بات ہے کہ درجنوں بیرونی ریاستوں سے آئے ہوئے مسافر اسٹیشن پر بیٹھے ہوئے ہیں اور کوئی بھی ہمارے پاس خیر خبر لینے تک نہیں آیا جو کہ ایک افسوس ناک بات ہے۔گنے کی قیمتوں میں اضافے کے خواہاں کسانوں نے جمعہ سے جالندھر میں ریل کی پٹریوں اور قومی شاہراہ کو بلاک کردیا ہے۔ کٹرا میں پھنسے ہوئے مسافروں نے کل بھی احتجاج کیا اور کٹرا اور جموں سے ٹرین سروس کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ پھنسے ہوئے مسافر اپنی پریشانیوں کا کوئی نوٹ نہ لینے پر ریلوے انتظامیہ سے کافی پریشان نظر آئے۔بیرونی ریاست کے مسافر سنیل کمار نے کہا کہ جو ریلوے کی ہے ا±س پر کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے کہ آپ کی ٹکٹ کینسل ہے یا ریل دستیاب نہیں ہے۔ ابھی بھی ریلوے پر ٹکٹوں کو کیا جا رہا ہے۔ میں نے سنیچر وار شام اپنے ٹکٹ کو اس کے ذریعے کنفرم کیا تھا مجھے لگا کہ شاید ٹرینیں چل رہی ہیں تو میں کٹرا سے جموں ریلوے اسٹیشن کے لئے آگیا اور اب میں دو دنوں سے یہاں اپنے کنبے کے ساتھ ریلوے سٹیشن پر بیٹھا ہوں۔ اگر میری ٹکٹ کنفرم نہیں کی ہوتی تو شاید میں آج اپنے کنبے کے ساتھ کسی سستے سے ہوٹل میں ر±کا ہوتا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے ریلوے اتھارٹی کتنی لاپروا ہے۔ایک اور مسافر آشیش شرما نے کہا کہ پچھلے تین دنوں سے ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور جموں انتظامیہ یا ریلوے انتظامیہ کتنی لاپروا ہے وہ ہمیں پانی تک کیلئے پوچھنے نہیں آئی۔ ہم یہاں مہمان ہیں لیکن آج ہمیں احساس ہورہا ہے کہ جو جموں کشمیر مہمان نوازی کے لئے مشہور تھا اس وقت کے حالات دیکھ کے اب یہ لگتا ہے کہ یہ روایت بھی اب دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ ہم اپنے گھروں میں فون کرکے پیسے منگوا رہے ہیں اور ا±سی سے ہم دن کاٹ رہے ہیں۔