پلوامہ ڈائری | میکڈم بچھانے کا عمل سست روی کا شکار، 91کلومیٹر سڑکوں کی مرمت

مشتاق الاسلام
پلوامہ //پلوامہ میں رواں سال ضلع ہیڈکوارٹر سے ملانے والی سڑکوں کے علاوہ دیہی علاقوں کی اندرونی سڑکوں پر میگڈم بچھانے میں سست رفتاری کو لیکر عوامی حلقوں میں مایوسی ہے۔ آر اینڈ بی پلوامہ کے تحت آنے والے اکثر علاقوں کو نظر انداز کرنے پر لوگوں میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہے۔آر اینڈ بی محکمہ نے پلوامہ کے مختلف علاقوں میں 97 رابطہ سڑکوں میں سے 28 سڑکوں پر تارکول بچھانے کاکام ادھورا چھوڑ دیا ہے جبکہ نبارڈ کے زمرے میں آنے والے 9 میں 5 سڑکوں پر بھی میکڈم کا خواب ادھورا رہ گیا ہے۔پلوامہ میں رواں سال 102.16 کلومیٹر تک خستہ حال رابطہ سڑکوں کو بحال کرنے کیلئے آر اینڈ بی محکمہ کو میکڈم بچھانے کا ٹارگیٹ دیا گیا تھا۔سرکاری ذرائع سے حاصل اعداد و شمارکے مطابق محکمہ دیہی ترقی کی سست رفتاری کے سبب 91.90 کلومیٹر پر ہی میکڈم بچھانے کے کام مکمل کیا گیا جس کے نتیجے میں پلوامہ ڈویژن کے تحت آنے والے 69 علاقوں کی اندرونی و بیرونی سڑکوں پر میکڈم بچھایا گیا۔ سرکار کی جانب سے دئے گئے حدف کو مکمل کرنے میں زیادہ تر وہ رابطہ سڑکیں ہیں جنہیں معمولی مرمت کرکے آمدو رفت کے قابل بنایا گیا جبکہ پلوامہ کی اکثر سڑکیں جن پر گاڑیوں کی آمدو رفت کا کافی دباؤ رہتا ہے کو محکمہ کی جانب سے نظر انداز کرنے کی شکایات مل رہی ہیں۔لوگوں کے مطابق سرینگر کو پلوامہ سے ملانے والے سامبورہ کاکہ پورہ پل کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ بنی ہوئی ہے اور لوگوں نے اس حوالے سے دیہی ترقی محکمہ کے پاس عرضیاں بھی دائر کی ہوئی تھیں۔لوگوں کا کہنا تھا کہ مسلسل تین سالوں سے اس پل پرمیکڈم بچھانے کے بجائے نظر انداز کیا جارہا ہے۔سرکاری اہداف کو مکمل کرنے کے بجائے پلوامہ کے 28 علاقوں کی اندرونی و بیرونی رابطہ سڑکوں پر میکڈم بچھانے میں ناکامی اور ضلع کے اکثر سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت پر ایگزیکیٹو انجینئر جاوید احمد ڈار کا کہنا تھا کہ نبارڈ کے تحت آنے والی رابطہ سڑکوں میں انہوں نے امسال 4 سڑکوں پر کام مکمل کردیا ہے جبکہ باقی 5 پر 90 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نبارڈ کے تحت ان منصوبوں کو مکمل کرنے کیلئے محکمے کے پاس 3 سالوں کا عرصہ باقی ہے انہوں نے کہا کہ امسال پلوامہ کی رابطہ سڑکوں پر میکڈم بچھانے کا ہدف 90 فیصد مکمل ہوا ہے جس دوران مختلف منصوبوں کے تحت آنے والی 69 رابطہ سڑکوں کومیکڈا مائز کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہدف کے مطابق جو سڑکیں میکڈم بچھانے سے رہ گئی ان میں سے کئی سڑکوں پر میکڈم بچھانے میں سال کے آخری مراحل میں منظوری مل گئی جبکہ کئی دیگر میں لوگوں کے آپسی تنازعہ حائل آئے ہیں۔ادھر عوامی حلقوں نے سڑکوں پر میکڈم بچھانے کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کے بجائے منصوبے کو ادھورا چھوڑنے پرسولات کھڑے کردئے ہیں۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ اس حوالے سے دیہی ترقی محکمے کو جوابدہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

پلوامہ قصبہ کوڑے دان میں تبدیل
دھوبی کوہل میں گندگی جمع ، حکام خاموش
مشتاق الاسلام
پلوامہ//قصبہ پلوامہ میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں اور غلاظت کی وجہ سے یہاں کوئی بیماری پھوٹ پڑنے کا اندیشہ لاحق ہوگیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ضلع ہسپتال پلوامہ کے مین گیٹ کے بیچوں بیچ گندگی کی وجہ سے ہسپتال جانے والے بیماروں اور تیمارداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں طالب علموں، ملازمین اورراہ گیروں کو بھی سانس لینے میں دشواریاں درپیش ہیں۔غلام نبی وانی نامی ایک تاجر نے بتایا کہ قصبہ کے بیچوں بیچ موجود دھوبی کوہل میں اس قدر گندگی جمع ہوچکی ہے کہ یہاں موجود دکانداروں کو سانس لینے میں بھی دقتوں کا سامناہے۔کئی بار مونسپل کمیٹی کو آگاہ کرنے کے باوجود بھی اس کی صفائی نہیں ہوپارہی ہے۔لوگوں کے مطابق انتظامیہ نے کئی مرتبہ دھوبی کوہل کی صفائی کیلئے اقدامات شروع کئے لیکن تاایں دم اسکی صفائی ممکن نہیں ہوسکی۔لوگوں کے مطابق اگر چہ ایک مرتبہ انہوں نے ازخود رضاکارا نہ طور اس کی صفائی عمل میں لائی تاہم مونسپل کمیٹی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ترجیحی بنیادوں پر اس کی صفائی کا عمل شروع کرے تاکہ قصبہ کا ماحول بھی خوشگوار رہ سکے۔

گنڈی پورہ میں پانی کی قلت
لوگوں کاجل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاج
مشتاق الاسلام
پلوامہ// پلوامہ میںپینے کے پانی کی 126اسکیموں کے باوجود کئی لوگوں میں پانی کی قلت ہے ۔ کاکہ پورہ،دربگام،راجپورہ اور ٹہاب کے متعدد علاقوں سے وابستہ لوگ پینے کے پانی کی قلت سے پریشان ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ سرما کی آمد کے ساتھ ہی ان علاقوں میں چشمے اور ندی نالے سوکھ گئے ہیں جبکہ پانی کی سطح کم ہونے سے مکانوں کے صحنوں میں کھودے گئے ٹیوب ویل بھی خشک ہوچکے ہیں۔کاکہ پورہ کے ایک شہری غلام حسن کا کہنا ہے کہ دریا میں پانی کی کمی کے باعث اوکھو میں قائم فلٹریشن پلانٹ نے کام کرنا بند کردیا ہے اور علاقے میں اس وقت لوگوں کو پینے کے پانی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ادھر دربگام کے مظفر احمد ڈار نے کہا کہ علاقے میں پانی کہ شدید قلت نے لوگوں کو بے حال کردیا ہے کیونکہ جل شکتی محکمہ اس علاقے میں لوگوں کو پینے کے پانی کی سپلائی بہم پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ادھر تکیہ واگم میں لوگوں کی شکایت ہے کہ علاقے میں پینے کے پانی کی عدم دستیابی سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کی شکایت گرام سبھا میں بھی درج کرائی تھی لیکن ابھی تک لوگوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔قصبہ پلوامہ کے ڈلی پورہ سے تعلق رکھنے والے غلام محمد ڈار نے کہا کہ انہیں بابہ گنڈ واٹر سپلائی سکیم سے پینے کا پانی فراہم کیا جارہا تھا تاہم یہ سکیم خراب ہونے سے ڈلی پورہ سمیت قصبہ کے اہم علاقوں میں لوگوں کو پانی کی قلت کا سخت ترین سامنا درپیش ہے۔ادھر گنڈی پورہ پلوامہ میں لوگوں نے پانی کی عدم دستیابی کے سبب احتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل خواتین نے کہا کہ انہیں گزشتہ کئی دنوں سے پینے کے پانی کی سخت قلت کا سامنا ہے۔دریں اثنا پلوامہ کے بیشتر نجی و سرکاری اسکولوں میں درس و تدریس عملے کو بھی پانی کی قلت کا سامنا درپیش ہے۔دریں اثنا جل شکتی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ قصبہ پلوامہ کے بابہ گنڈ میں ٹیوب ویل پر 25 لاکھ روپئے کا منصوبہ پہلے سے زیر غور ہے اور اس منصوبے پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے قصبہ پلوامہ سمیت متعدد علاقوں میں درپیش پانی کی قلت کے معاملے پر بہترین حدتک قابو پایا جاسکتا ہے۔

پلوامہ اور شوپیان میں آوارہ کتوں کی ہڑبونگ
پلوامہ/مشتاق الاسلام/پلوامہ اور شوپیان کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں نے ہڑبونگ مچادی ہے۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ کتوں کو لاکر یہاں کی بستیوں میں چھوڑا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ صبح و شام اپنے ہی گھروں میں رہنے کو ترجیح دی جارہی ہے۔پلوامہ اور شوپیان میونسپل حدود کے تحت دیگر قصبوں سے کتوں کی تعدا د کم کر نے کیلئے کتوں کو دوردراز دیہا ت میں چھوڑا جا تا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کوسخت مشکلا ت کا سامنا کر نا پڑ ر ہا ہے۔ادھر بنڈزو، درسو، دربگام، متری گام، کریم آباد، گڈورہ،نیوہجبکہ شوپیان کے گناپورہ،ہیف شرمال، پنجرن، ترنج اورامام صاحب کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں سینکڑ وں کی تعداد میں آوارہ کتے اہم سڑکوں اور سیب کے باغات میں گھو متے رہتے ہیں ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ رات کے اند ھیر ے میں کتوں کو گا ڑیوں میں چھوڑ دیا جا تا ہے۔ ہیف شرمال شوپیان کے ایک مقامی باشندہ ریاض احمد ملہ کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں کتوں کو لاکر یہاں کی بستیوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔اس دوران درسو پلوامہ اور قصبہ پلوامہ کے سومو اڈے میں بھی آوارہ کتوں کی بھر مار سے لوگ تنگ آگئے ہیں جس کی تازہ مثال اس بات سے ملتی ہے کہ چند دن پہلے آوارہ کتوں نے کئی افرادکو اس وقت بری طرح زخمی کیا جب وہ بازارسے گھر واپس آرہے تھے۔راجپورہ اور دربگام علاقوں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ یہاں دن بھر یہ آوارہ کتے گندگی کے ڈھیر پر جمع رہتے ہیں جس کی وجہ سے عام مسافروں کے ساتھ ساتھ دکانداروں کو بھی چلنے پھرنے میں مشکلات پیش آتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ان آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کیلئے کئی بارحکام کوآگاہ کیا لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے جس کی وجہ سے ان آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔