پلوامہ میں نوجوان کی ہلاکت اور جنوبی کشمیر میں کاسو کی آڑ میں پکڑ دھکڑ

 
 سرینگر// مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دیئے گئے احتجاجی پروگرام کی پیروی میں جامع مسجد سرینگر میں نماز ظہر کے بعد حریت پسند رہنمائوں ، کارکنوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے مزاحمتی رہنما محمد یاسین ملک کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران جنوبی کشمیر میں فوج اور فورسز کی جانب سے مار دھاڑ، CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ ،پلوامہ میں ایک نہتے نوجوان کی ہلاکت اور ڈیڑھ درجن سے زائد دیہات میں سخت ترین کریک ڈائون کیخلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا ۔اس موقعہ پرمحمد یاسین ملک نے کہا کہ حکمرانوں نے کشمیری عوام کیخلاف مظالم اور پُر تشدد کارروائیوں کا جو نیا سلسلہ شروع کیا ہے اُس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائیگا اور اگر حکمرانوں نے اپنی جارحانہ کارروائیوں سے عبارت روش ترک نہیں کی تو کشمیری حریت پسند عوام اس کھلی جارحیت کیخلاف سڑکوں کا رخ کریں گے ۔انہوں نے جنوبی کشمیر میں کارروائیوں کو فوری طور بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام کو فوج اور فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور وہاں کے لوگ اس وقت شدید خوف کا سامنا کررہے ہیں ۔ مظاہرے میں غلام نبی زکی، شیخ عبدالرشید، انجینئر ہلال احمد وار، مشتاق احمد صوفی، شوکت بخشی، اشرف بن سلام، غلام قادر بیگ، بشیر کشمیری، محمد یوسف نقاش، حکیم عبدالرشید، یاسمین راجہ، امتیاز حیدر، عبدالرشید اونتو، عبدالمجید وانی، سید بشیر اندرابی، پرنس سلیم، فاروق احمد سوداگر، امتیاز احمد شاہ، ایڈوکیٹ یاسر دلال، غلام حسن میر، سید محمد شفیع، فردوس احمد وانی، محمد شفیع میر، غلام محمد ناگو، محمد یاسین عطائی نے شرکت کی۔