پلوامہ میں آبپاشی محکمہ متحرک دھان کی پنیری لگانے کا سلسلہ شروع، کسانوں میں خوشی کی لہر

 مشتاق الاسلام

پلوامہ//ضلع پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں دھان کی پنیری لگانے میں تاخیر ہونے کی وجہ سے کسانوں کی پریشانیاں خوشیوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ڈپٹی کمشنر پلوامہ کی ہدایات پر محکمہ آبپاشی اور بجلی محکموں نے 24 گھنٹے کام کرنا شروع کردیا ہے۔پلوامہ کے پہو،کاکہ پورہ،نامن،بیگم باغ، اوکھو اور سیتھر گنڈ میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کسانوں کو بھی بھاری نقصان کا اندیشہ لاحق تھا۔خشک اور گرم موسم کی وجہ سے کسانوں کو اندیشہ لاحق تھا کہ دھان کی پینری لگانے میں بڑی تاخیر ہو گئی ہے۔ضلع میں اگرچہ وسیع اراضی پر میوہ جات اگائے جاتے ہیں تاہم ضلع پلوامہ میں دھان کی بھی کاشت کی جاتی ہے جس سے ضلع پلوامہ کی ایک اچھی آبادی وابستہ ہے۔ دھان کی کھیتی کی وجہ سے یہاں پر مقامی و غیر مقامی لوگوں کو روزگار بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت اگرچہ ضلع پلوامہ کے نچلے علاقوں میں دھان کی پنیری کو کھیتوں میں لگانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے تاہم کاکہ پورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے گزشتہ روز احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرتبہ بجلی کی کٹوتی اور آبپاشی کی نایابی سے دھان کی پنیری لگانے میں بڑی تاخیر ہو رہی ہے۔جس کی وجہ سے آج بھی کچھ کھیت ویران نظر آ رہے ہیں۔کسانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے امسال دھان کی پنیری لگانے میں تاخیر ہوئی جبکہ ہم اس وقت تک کام ختم کر چکے ہوتے تھے۔ لگاتار بارشوں کی وجہ سے ہمیں دھان کے کھیت تیار کرنے کے لئے کافی معاوضہ ادا کرنا پڑا جب کہ موسم ٹھیک رہنے کی صورت میں اتنا معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑتا تھا۔دریں اثنا ایگزیکٹو انجینئر محکمہ آبپاشی پلوامہ نزیر احمد بٹ نے بتایا کہ کاکاپورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کسانوں کی سہولیات کیلئے انہوں نے اقدامات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں 24 گھنٹے کھیتوں کو سیراب کرنے کیلئے آبپاشی کی سہولیات فراہم رکھی گئی ہے جبکہ آبپاشی کا عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔نزیز احمد بٹ نے مزید کہا کہ کسانوں کو خشک اورگرم موسم سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ محکمہ چند روز کے اندر ہی پوری زرعی اراضی کو سیراب کرنے کی وعدہ بند ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ بشارت قیوم نے تمام محکموں بشمول آبپاشی کو ہدایات جاری کردی ہے کہ دھان کی پنیری لگانے کے دوران کسانوں کو درپیش مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔