پلوامہ حملے کی سچائی کا علم،مزید وضاحت کی ضرورت نہیں

سرحد وں پر دراندازی میں تیزی سے گراوٹ آئی :جنرل راوت

 
دراس //بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہاکہ پاکستان 20 سال قبل کرگل جنگ میں ہزیمانہ شکست کے بعد بھارتی فورسز کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کریگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پلوامہ حملے کے حوالے سے ہمیں سچائی کا علم ہے اس لئے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔دراس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندگان سے بات کرتے ہوئے راوت کا کہنا تھا ’’پاکستان شکست کے بعد مستقبل میں کرگل جیسی جنگ کی ہمت کے بارے میں نہیں سوچے گا اور ہمیں اس پر تمام سطحوں پر برتری حاصل ہے ‘‘۔ان کاکہناتھاکہ کرگل جنگ کے بعد مسلح فورسز کے سرویلنس نظام میں بہتری لائی گئی ہے۔ راوت نے کہا’’1999میں انہوں نے بھارت کی مضبوط سیاسی خواہش کا نہیںسراہا لیکن آج ہمارے پاس بہتر سرویلنس نظام ہے اور ہم اس اونچائی پر ہیں جہاں پاکستان پہنچنے کے بارے میں سوچ ہی نہیںسکتاہے ‘‘۔فوجی سربراہ کاکہناتھاکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ پاکستان پھر سے ایسا کرنے کی کوشش کرے گالیکن اس بات کا یقین ہے کہ اگر وہ ایسا کرتاہے تو ہم ایک اور کامیابی کیلئے تیار ہیں ۔اس دوران انہوں نے کہاکہ سرحدوں پر دراندازی میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے جس کی وجہ فوج کا انتہائی الرٹ رہناہے۔ان کاکہناتھا’’دراندازی میں کمی کی دو وجوہات ہیں ، ایک فورسز کا الرٹ رہنا اور دوسرا ہماری طرف سے دراندازی روکنے کیلئے اضافی فورسز تعینات کرنا،سرحد کے اس پار پاکستانی آرمی اور جنگجوئوں کو یہ سمجھناہوگاکہ اگر وہ حد متارکہ کے نزدیک آتے ہیں تو ان کی نعشیں ہی واپس جائیں گی‘‘۔جنرل بپن راوت نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر شدید رد عمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے کہاتھاکہ پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی رول نہیں ۔ بپن راوت نے کہا’’ہم سچائی کے بارے میں جانتے ہیں ، اس لئے ہمیں بیان دینے کی ضرورت نہیں ،ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پلوامہ حملے پر ٹھوس ثبوت دیئے ہیں اور یہی سب ہے جو وہ کہنا چاہیں گے ‘‘۔قبل ازیں انہوں نے کرگل جنگ کے دوران مارے گئے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ ان کے ہمراہ دیگر افسران بھی تھے ۔