پلوامہ جھڑپ اور ہلاکتیں:لالچوک، گوگجی باغ اور بمنہ میں طلاب کے مظاہرے اور پتھرائو

 سرینگر//ہکری پورہ پلوامہ میں لشکر طیبہ کمانڈر ابودجانہ ،ساتھی عارف للہاری اور ایک عام شہری کی ہلاکت پر شہر کے لالچوک ،گوگجی باغ اوربمنہ میں احتجاجی مظاہرے اور پتھرائو ہوا اور طلاب کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے شدید ٹیر گیس اور پائوا شلنگ کی ۔شدید نوعیت کی جھڑپوں میں کئی اہلکاروں سمیت کئی مظاہرین زخمی ہوئے ۔ادھر کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی میں بھی طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور مظاہرے کرتے ہوئے عسکریت پسندوں اور شہری کے حق میں غائبا نہ نماز جنازہ ادا کی ۔ تجارتی مرکز لالچوک میں اُس وقت افراتفری ،بھاگم دوڑ ،اتھل پتھل مچ گئی جب ایس پی ہائر سیکنڈری اسکول اور کوٹھی باغ اسکول کے طلباء سڑکوں پر نکل آئے اور آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔ جونہی شہر میں ابو دجانہ،عارف للہاری اور ایک شہری کے مار ے جانے کی خبر پھیلتی ہی طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے سڑکوں نکل آئے جسکی وجہ سے ایم اے روڑ پر ٹریفک کی نقل وحرکت متاثر ہوگئی جبکہ چرچ لین ،ایم اے روڑ ،ریذ یڈنسی روڑ ،ریگل چوک،آبی گزر اور اسکے گرد ونواح میں یکا یک افراتفری پھیل بھاگم دوڑ ،اتھل پتھل مچ گئی ۔طلباء جونہی احتجاجی مارچ نکالنے کے دوران تجارتی مرکز لالچوک کی جانب پیش قدمی کرنے لگے ،تو فورسز فوری طور پر حر کت میں آگئے اورایس پی ہائر سیکنڈری سکول کے طلباء کو منتشر کرنے کیلئے تعاقب کیا جس کے ساتھ ہی دوسری طرف کوٹھی باغ اسکول کی طالبات بھی احتجاج کرتی ہوئیں ایم اے روڑ کی جانب مارچ کرنے لگی ۔اس دوران مشتعل طلاب نے تار گھر کے نزدیک قائم فورسز بینکر پر پتھرائو کیا اورفورسز نے کارروائی عمل میں لائی ،جس کے ساتھ تجارتی مرکز لالچوک کے آبی گزر ،ایم اے روڑ ،ریگل چوک ،ایذیڈنسی روڑ اور اسکے گرد ونواح علاقوں میں شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ طلاب نے فورسز پر خشت باری کی جبکہ جوابی کارروائی میں فورسز نے شدید ٹیر گیس ،پائو شلنگ کی اور دیکھتے ہی دیکھتے دکانداروں نے دکانوںکے شٹر نیچے گرائے ۔طلاب اور فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپیں ہونے کے سبب یہاں معمول کی سر گرمیاں بری طرح سے متاثر ہوئیں ۔اس دوران کئی طلباء کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی جبکہ کئی راہگیروں سے بٹوے ،موبائیل فون اور شناختی کارڈ لئے گئے اور اُنہیں تھانے پر حاضر ہونے کیلئے کہا گیا ۔اس سے قبل امر سنگھ کالج میں زیر تعلیم طلباء اور فورسز کے درمیان اُس وقت شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہوئیں ،جب طلباء نے احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی ۔طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور وہ کالج احاطے میں جمع ہوئے جہاں سے انہوں نے احتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی جسے فورسز نے ناکام بناتے ہوئے مارچ کو کالج کے احاطے تک ہی محدود رکھنے کی کارروائی کی۔اس دورازن طلاب مشتعل ہوئے اور فورسز پر شدید پتھرائو کیا ۔طلباء کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے شدید شلنگ کی جسکے ساتھ ہی یہاں بھی شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔امر سنگھ کالج کے گرد ونواح میں بھی صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔اس دوران کالج کے تمام در وازے مقفل کئے گئے جسکی وجہ سے درجنوں طلاب کالج احاطے میں محصور ہو کر رہ گئے ۔ اسی طرح ڈگری کالج بمنہ کے طلاب نے احتجاجی مظاہرے کئے اوراحتجاجی مارچ نکالنے کی کوشش کی تاہم تو فورسز نے اُن کا راستہ روکا ۔طلاب نے مشتعل ہو کر فورسز پر پتھرائو کیا اورجوابی کارروائی کے دوران فورسز نے مظاہرین پر ٹیر گیس شلنگ کی ۔ بمنہ میں تشدد بھڑک اٹھنے کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئی جبکہ گاڑیوں کو متبادل روٹوں کا استعمال کرنا پڑا ۔اس دوران کشمیریونیورسٹی سے بھی احتجاجی مظاہرئے کئے اورکلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور اقبال لائبری کے نزدیک جمع ہوئے جہاں سے انہوں نے احتجاجی مارچ نکالا ۔طلباء نے یونیورسٹی کے احاطے میں لانگ مارچ کیا اور بعد میں جاں بحق جنگجوئوں اور عام شہری کے حق میں غائبانہ نماز ِجنازہ بھی ادا کی ۔ادھر اسلامک یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں بھی طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا ۔