پلوامہ ترقیاتی بورڈ میٹنگ منعقد: ضلع کیلئے126 کروڑ روپے کے کیپس بجٹ کو منظوری

پلوامہ// تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر کی صدارت میں ضلع ترقیاتی بورڈ پلوامہ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ضلع کے ترقیاتی منظر نامے اور پچھلے سال بورڈ میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی عمل آوری کا تفصیل سے جائیزہ لیا گیا۔میٹنگ میں زراعت کے وزیر محمد خلیل بند، جنگلات اور ماحولیات کے وزیر مملکت ظہور احمد میر، وی سی گوجر بکروال مشاورتی بورڈ گلزار احمد کھٹانہ، ممبر پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے، ایم ایل اے ترال مشتاق احمد شاہ کے علاوہ مختلف محکموں کے سربراہ اور افسران موجود تھے۔اس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر غلام محمد ڈار نے ایک پاور پوائنٹ پریذنٹیشن کے ذریعے ضلع میں عملائی جارہی ترقیاتی سرگرمیوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔میٹنگ کے دوران پچھلی بورڈ میٹنگ کے دوران لئے گئے فیصلوں کی عمل آوری کا بھی جائیزہ لیا گیا۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ پچھلے برس کے دوران مختلف ترقیاتی کاموں پر دستیاب رقومات میں سے76.80 کروڑ روپے کا تصرف عمل میں لایا گیا۔وزیر کو پلوامہ قصبہ کی جاذبیت میںا ضافہ کرنے اور دیگر ترقیاتی پروجیکٹوں کے بارے میںجانکاری دی گئی۔آر اینڈ بی شعبۂ کی پیش رفت کا جائیزہ لینے کے دوران وزیر کو بتایا گیا کہ گذشتہ مالی برس کے دوران8 اہم پُل مکمل کئے گئے جن پر1590 لاکھ روپے صرف کئے گئے۔ چیئرمین نے عمل آوری ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ تمام پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔ میٹنگ کے دوران پی ایچ ای سیکٹر کی حصولیابیوں کو بھی زیر بحث لایا گیا۔بورڈ نے اتفاق رائے سے ضلع میں ٹرانسفارمر بنک قائم کرنے کا فیصلہ لیاجس کے لئے چیئرمین نے10 لاکھ روپے،پلوامہ، پانپور اور ترال کے ارکان اسمبلی نے20/20 لاکھ روپے جبکہ ممبر پارلیمنٹ نذیر احمد لاوے نے10 لاکھ روپے دینے کااعلان کیا۔صحت شعبۂ کے حوالے سے بتایا گیا کہ ضلع میں اس وقت بڑے پروجیکٹ عملائے جارہے ہیں جن میں ایمز کا قیام، ضلع ہسپتال پلوامہ میں آئی پی ڈی بلاک قائم کرنا بھی شامل ہے۔چیئرمین نے افسروں پر زور دیا کہ وہ ترقیاتی عمل کو مشن موڈ کے تحت ہاتھ میں لیں تا کہ ان کے فوائد زمینی سطح پر لوگوں تک پہنچ سکیں۔نعیم اختر نے کہا کہ زراعت اور اس سے منسلک سیکٹروں کو دیہی اقتصادیات کی ترقی میں ایک کلیدی اہمیت حاصل ہے لہذا ان وسائل کو مکمل طور سے بروئے کار لایا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت حلقوں کو ترقی کے نوڈل نکات اور منصوبوں کی عمل آوری کے اہم مراکز بنانے کی وعدہ بند ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ منصوبہ مرتب کرتے وقت عوامی نمائندوں کو بھی اعتماد میں لیں۔انہوں نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ فیلڈ کا دورہ کر کے لوگوں کی مشکلات کے بارے میں جانکاری حاصل کریں۔میٹنگ کے دوران ارکان نے مختلف شعبوں کے حوالے سے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سامنے رکھے۔چیئرمین نے ارکان کو یقین دلایا کہ اُن کے تمام مطالبات ترجیحی بنیادوں پر پورے کئے جائیں گے۔چئیرمین نے ضلع ترقیاتی کمشنر کے کام کی ستائش کی۔ بعد میں بورڈ نے ضلع کے لئے2018-19 کے 126.79 کروڑ روپے کے سالانہ منصوبے کو منظوری دی۔