پلوامہ اور شوپیان کے متعددعلاقے ہنوز گھپ اندھیرے میں

اننت ناگ/ شوپیان //جنوبی کشمیر میں اگر چہ بیشتر رابطہ سڑکوں پر آمد رفت بحال ہوگیا ہے تاہم 3روز گزر جانے کے باوجومتعددتحصیل صد مقامات اور دیہات میںبجلی سپلائی بحال نہیں کی گئی ۔ پلوامہ ،شوپیان ،کولگام ،ترال اونتی پورہ اور دیگر درجنوں قصبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے فون پر بتایا کہ ان کے علاقوں میںبجلی سوموار کی شام تک بحال نہیں کی گئی ہے جس دوران عام لوگوں کے ساتھ مختلف امتحانات میں شامل ہو رہے طلبا و طالبات کو انتہائی ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ادھرچند دیہات میں لوگوں نے از خود ترسیلی لائینوں کو ٹھیک کیا ہے ۔تملہ ہال پلوامہ میں مقامی نوجوانوں نے ’اپنی مدد آپ کرو ‘کے تحت بجلی لائینوں کی مرمت کی ۔انہوں نے الزام لگایا کہ علاقہ میں تعینات بجلی عملہ غائب ہے اور کئی بار رابطہ کرنے کے باوجود بھی بجلی اہلکار اس جگہ نہیں آئے جہاں چنار کی شاخ گرنے سے ترسیلی لائین کو نقصان پہنچا ۔ گنہ پورہ شوپیان گرڈ میں ٹاور 57 خراب ہوا ہے جو ابھی تک ٹھیک نہیں ہوا ہے۔ضلع میں پچھلے تین روز سے بجلی کا نظام بد سے بدتر ہوگیا ہے اور پورا ضلع بجلی کی سپلائی سے محروم ہے۔ضلع اننت ناگ میں پیر کو بھی معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں ،ضلع کے بیشتر علاقوں میں دکانیں بند رہیں جبکہ ٹرانسپورٹ پر بھی جزوی اثر پڑا۔ضلع کے کوکرناگ،دیلگام،اچھ بل،ڈورو ،ویری ناگ اور کپرن علاقوں میں ترسیلی نظام کو سخت نقصان پہنچا ہے ۔ساگام گرڈ اسٹیشن کے ایک ٹاور کو شدید نقصان پہنچا ہے ،جس کے سبب ضلع کے بیشتر علاقے گھپ اندھیرے میں ڈوبے ہیں ۔محکمہ بجلی کے ایک آفیسر نے کشمیر عظمٰی کو بتایا کہ دیلگام کے نزدیک ہائی ٹیشن ٹاور زمین پر گر گیا ہے ،جس کی مرمت جاری ہے اور اُمید ہے کہ منگل شام تک متاثرہ علاقوں میں بجلی بحال ہوسکتی ہے ۔اس بیچ لارنو کے لوگوں نے بتایا کہ مرگن اور وائیل کو ملانی والی سڑک برف سے ہنوز ڈھکی ہے ،جس کے سبب لوگوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں ۔اس سڑک پر قریباََ2درجن گاڑیاں پھنسی ہیں ۔اس بیچ جنرل بس اسٹینڈ اننت ناگ میں زیر تعمیر مکان کی سلیپ اچانک گر گئی تاہم اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔