پلس ٹو پی ایس سی لیکچرر ایسوسی ایشن رام بن کی میٹنگ

 بانہال // پریس کے نام جاری بیان میں مطابق پلس ٹو پبلک سروس کمیشن سے منتخب لیکچرر ایسوسی ایشن رام بن کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں حالیہ دنوں202 ۔ SRO  میں ترمیم کیے جانے پر چیف منسٹر  محبوبہ مفتی اور  ہائیر ایجوکیشن منسٹر الطاف بخاری اور کمشنر سکریٹری فاوق احمد شاہ کا شکریہ ادا کیا۔اور بتایا کہ وزیر موصوف نے جس طرح ذاتی دلچسپی لے کر اس مسئلے کو سلجھایا ہے وہ قابل تحسین ہے۔اور اس اقدام سے نئے تعینات شدہ لیکچرارز میں کام کرنے کا نہ صرف جذبہ پیدا ہو گا بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو کما حقہ نبھانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے امیدواروں میں بھی محکمہ اور اپنے پیشہ سے طرف رغبت بڑھے گی۔اجلاس میں ایجوکیشن منسٹر کے اقدامات کی سراہنا کی گئی اور ان کے اس بیان کا خیر مقدم کیا گیا جس میں نقل کی وبا کا سد باب کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔مختلف ہائیر سکینڈریوں سے آئے ہوئے لیکچراروں نے پلس ٹو لیکچرارز ایسوسی ایشن نے کئی اہم اور حل طلب مسائل پر بھی زور دیا اور وزیر موصوف سے انہیں حل کرنے کی ذاتی مداخلت کی اپیل کی ۔ مقررین مجلس نے کہا کہ عرصہ دراز سے ان کے بہت سارے جائز مطالبات ابھی بھی التوا  میں پڑے ہوئے ہیں ، جس میں پلس ٹو لیکچرارز کا حق  Running Grade سرفہرست ہے – تاکہ لیکچراروں کو بھی دوسرے آفیسروں کی طرح رننگ گریڈ کے کے زمرے میں لایا جائے تاکہ باقی محکموں کے آفیسران جو ابتدا میں اسی گریڈ میں تعینات ہوتے ہیں سے لیکچرار بھی کو بھی مستفید کئے جانے کا جائز مطالبہ حل کیا جائے ۔اس کے علاوہ Pay band 2 سے پے بینڈ تھری میں داخل کیا جائے۔اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کے لئے کوٹہ مختص کئے جانے لیکچررز کی تعیناتی جلد سے جلد کرنے پر بھی زور دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے بارہا اپنی گزارشات وزیر موصوف کی خدمت میں پیش کی ہیں۔لہاذا ان گزارشات کو پورا کیا جانا چاہئے۔آخر میں ممبران نے اس بات کا اعادہ کیا وہ بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے میں اپنا کلیدی رول ادا کرنے کے وعدہ بند ہیں۔اور وہ اس کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کریں گے۔میٹنگ میں جو لوگ موجود تھے۔ان میں محمد شکیل رونیال، ڈاکٹر محمد امین خان، ڈاکٹر علی محمد، سنجے ٹھاکور، جاوید احمد نائیک، امر سنگھ، فرید احمد رونیال، ریاض احمد سوہل، شبیر احمد سوہل، ڈاکٹر خالد رسول، فاروق احمد بٹ، محمد اقبال پڈھار، محمد عباس گیری، ندیم اصغر میر، پرویز احمد سوہل، پرویز احمد خان اور ایم اے کٹوچ قابل ذکر تھے ۔