پسماندہ لوگوں کے لئے صحت سینٹر | تعمیر14برسوں سے تشنۂ تکمیل کیوں؟

سرفرازاحمدخان ،پونچھ
صحت کی بہتر سہولیات کا حصول ملک کے تمام شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، مرکز سے لے کر ریاستی حکومتوں نے دیہی علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے پرائمری ہیلتھ سینٹر قائم کئےہیں تاکہ دیہی علاقوں کے لوگوں کو ان کے گھر پر صحت کی سہولیات مل سکیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ سہولت یو ٹی جموں و کشمیر کے دیہی علاقوں کے لوگوں کی قسمت میں نہیں ہے۔یہاں کے سرحدی ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر کے بلاک بالاکوٹ کی بڑی آبادی آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی طبی سہولیات سے محروم ہے۔جہاں پرائمری ہیلتھ سینٹر و سب سنٹر کی عمارتیں تا ہنوز نامکمل ہونے کے باعث مقامی آبادی کو دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہےاور متعلقہ حکام تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی لوگوں کو معمولی مرض کی تشخیص کیلئے بھی ضلع ہسپتال پونچھ یا پھر راجوری ہسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بلاک بالاکوٹ کی پنچائت چنڈیال اور سنگیوٹ میں متعلقہ حکام کی جانب سے پرائمری ہیلتھ سنٹر منظور کیا گیا تھا ،جس کی عمارت ابھی تک نامکمل ہے۔ عوام کے مطابق ضلع افسران اور دیگر متعلقہ حکام کے سامنے اس مسئلے کو کئی بار اْٹھایا گیاتاہم خالی یقین دہانیوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

 پونچھ ،بلاک بالاکوٹ میں طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مختلف ادوار میں حکومتوں نے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کئے تھے کہ پنچائتوں کے ذریعہ دور دراز اور سرحدی علاقوں میں تمام تر بنیادی سہولیات دستیاب کروائی جائیں گی۔مگر افسوس کی بات ہے کہ آج 2022 میں بھی ہمارے دور دوراز ، پسماندہ اور سرحدی علاقہ میں بنیادی طبی نظام کا فقدان ہے۔انہیں آج بھی کئی کئی کلو میٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد حصول طب کیلئے بڑے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔ پسماندہ اور سرحدی علاقہ میں ایسے درجنوں دیہات ہیں جہاں پر بنیادی طبی مرکز کا نام و نشان تک نہیں ہے،اور جہاں اس قسم کے مراکز موجود ہیںبھی، تو وہ نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ کہیں پر ڈاکٹراور طبی عملہ موجود نہیں اور کہیں پر ادویات اور دیگر طبی سامان نابود ہے۔ جس کے  نتیجہ میں چھوٹے موٹے مرض یعنی سر درد و بخار جیسی بیماری کی ادویات کی حصولیابی کے لیے کئی کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ سرحدی ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر، بلاک بالاکوٹ کے اندر بیشتر پنچائتوں کے اندر سب سنٹر اور پرائمری ہیلتھ سنٹروں کی عمارتوں کا کام برسوں سے چل رہا ہے لیکن  نہ معلوم کیوںمکمل نہیں ہورہا ہے؟اور نہ ہی دور دراز اور سرحدی علاقہ میں ماہر ڈاکٹر اور ادویات مریضوںکو دستیاب ہیں۔  پرائمری ہیلتھ سینٹر سنگیوٹ کا کام سال 2007-08میں لینٹر لیول کر کے جوں کا توں چھوڑ دیاگیا تھا ، آج بھی نامکمل ہے۔

اس ضمن میں بی ڈی سی چیئرپرسن بلاک بالاکوٹ شمیم اختر کا کہنا ہے کہ سب ڈویژن مینڈھر کا دور دراز اور پسماندہ سرحدی علاقےسنگیوٹ اور چنڈیال ہیں، جن کی آبادی کم ازکم دس ہزار سے زائد ہے۔ بد قسمتی سے اتنی بڑی آبادی دور ِ حاضر میں بھی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقہ میںاگر کوئی بزرگ،عورت یا بچہ بیمار ہو جائے تو پختہ سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے مین شاہراہ تک پہنچانے میں کئی کلو میٹر کا سفر طےکرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد علاج و معالجہ کے لئےراجوری یا پونچھ لے جانا پڑتاہے۔   اس لمبے سفر کے دوران کئی مریضوں کی جان بھی جاتی ہے۔ ان علاقوں میںعوام کو سر درد اور پیٹ درد کی بھی ٹِکیاںبر وقت دستیاب نہیں ہوتی ہیں، جن کی حصولیابی کے لئے مینڈھر یا راجوری کا رُخ اختیار کرنا پڑتا ہے ،ظاہر ہے کہ سنگیوٹ اور چنڈیال ایک ایسا علاقہ ہے جس کا ایک کنارہ ضلع راجوری کی سرحد تھنہ منڈی کے ساتھ لگتا ہے اور دوسرا کنارہ منجا کوٹ کے ساتھ لگتا ہےاور یہ دور دراز پسماندہ علاقہ انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہے۔ سرکار نے یہاں کی عوام کو بنیادی سہولیات میسر کروانے کی کوئی کوشش  نہیں کی ہے ۔ اسی طرح بلاک بالاکوٹ میں کسی پنچائت کے اندر بھی بر وقت طبی سہولیات کا انتظام نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ پنچائت سنگیوٹ کے اندر ایک غیر جانبدارنہ انکوائری ٹیم بھیجے کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر سنگیوٹ کی عمارت کیلئے کتنا پیسہ منظور ہوا تھا اور آج تک کتنا پیسہ اس پر صرَف ہوا ہے،اور کن وجوہات کے باعث آج تک یہ عمارت تشنہ تکمیل ہے؟

اس ضمن میں پنچایت چنڈیال کی سرپنچ روبینہ کوثر سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایاکہ افسوس کا مقام ہے کہ علاقہ کے عوام کیلئے سرکار کی جانب سے ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر منظور ہوا تھا، جس کا کام2007-08میں شروع ہوا تھااور قریباً  14برسوں کے دوران صرف اس کی دیواریں ہی تعمیر ہوئی ہیںاور ابھی تک اس پہ لینٹر نہیں پڑا ہے۔ کب اور کس دور میں اس کا لینٹر ڈالا جائے گا اور کب اس سرحدی اور پسماندہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ہوگا،اس کا جواب شاید ہی کوئی دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہاں سر درد اور بخار جیسے چھوٹے مرض کے لیے ادویات دستیاب نہیں ہیں۔یہاں کی آبادی مشکلات کے کٹھن مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سنگیوٹ پنچایت کے سرپنچ مخیاز احمد خان سے بات چیت کے دوران بتایاکہ مذکورہ پرائمری ہیلتھ سنٹر سنگیوٹ کے  لیے 98لاکھ روپے واگزار ہوئے تھے۔مگر مذکورہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کی صورت حال جوں کی توں پڑی ہے۔ ۔بقول اُن کے مذکورہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کے لیے ڈپٹی کمشنر سے ملاقاقی ہوکر معاملہ زیر غور لایا اور ایل جی کے نوٹس میں بھی لایا گیا لیکن کوئی بھی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ،نتیجتاً عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ بلاک میڈیکل آفیسر مینڈھر ڈاکٹر پرویز احمد خان کے مطابق انہوں نے اس کے بارے میں دو تین بار متعلقہ حکام کو لکھ چکا ہے کہ اس پر لینٹر ڈالا جائے ۔امید ہے بہت جلد کام شروع کیا جائے گا۔

 اتنی بڑی آبادی کو آج کے ا س ترقی یافتہ دور میں بنیادی طبی سہولیات دستیاب نہ ہونا اپنے آپ میں سوچنے والی بات ہے کیونکہ سرکار طبی میدان میں کامیابیوں کے بڑے بڑے دعوے کر رہی ہے اور یہاں کی عوام سر درد اور بخار جیسی ادویات کیلئے بھی پریشان ہے۔کویڈ۔19وبا کے حالات میں جبکہ پی ایچ سی کی اہمیت کا فی بڑھ جاتی ہے، ایسے میں اس علاقہ میں پرائمری ہیلتھ سینٹر و سب سنٹر کی عمارت کی تعمیرمکمل نہ ہونا تشویش کی بات ہے۔(چرخہ فیچرس)