پری پیڈ میٹروں کی تنصیب عوام کُش اورسرمایہ داروں کیلئے اجارہ داری

سرینگر// حکومت کی طرف سے ریاست میں پری پیڈ بجلی میٹروں کی تنصیب اور ریتلے بجلی پروجیکٹ کو این ایچ پی سی کے حوالے کرنے کے فیصلے کے خلاف تجارتی انجمنوں نے سخت ردعمل کااظہار کرتے ہوئے سینہ سپر ہونے کاانتباہ دیا ہے۔کشمیر اکنامک الائنس نے اِسے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر کشمیری وسائل کے بعد بجلی پروجیکٹوں کو لوٹنے کی تیاری قرار دیا۔ تجارتی انجمنوں کے مشترکہ پلیٹ فارم کشمیر اکنامک الائنس نے بتایا کہ پہلے ہی ریاست میں پانی کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی گئی اور اب ریاست کے اپنے بجلی پروجیکٹوں پر مرکز کی نظر ہے۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے کہا’’محکمہ بجلی کی طرف سے پری پیڈ میٹروں کو نصب کرنے سے بجلی فیس میں بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا اور اس کی ادائیگی ایک عام صارف کے پہنچ اور قوت ادائیگی سے باہر ہوگی‘‘۔انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام اپنے ہی سر زمین ,جہاں سے بجلی پیدا ہوتی ہے ,بجلی کی سہولیات سے محروم رہے گی ۔انہوںنے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے بجلی سیکٹر میں سرمایہ داروں کی اِجارہ داری قائم ہو گی ۔ این ایچ پی سی کو ریاستی اثاثوں پر اپنا قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس نے واضح کیا کہ کہ انہیں ریاستی وسائل کی مزید لوٹ کھسوٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ریاست میں بجلی کی بحرانی صورتحال کیلئے سندھ طاس آبی معاہدہ اور این ایچ پی سی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کے ای اے نے کہا کہ ریاست کے بجلی پروجیکٹوں پر صرف ریاست کو ہی حق حاصل ہے۔ این ایچ پی سی پرریاستی وسائل کا لوٹ کھسوٹ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فاروق احمد ڈار نے کہا کہ این ایچ پی سی کو ریاستی وسائل اور خزانے دئیے گئے ہیں تاہم انہوںنے صاف کیا کہ اس کے خلاف تاجروں سمیت تمام لوگوںکو اٹھ کھڑا ہونے کی سخت ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جو اثاثے این ایچ پی سی کے زیر قبضہ ہے انہیں فوری طور پر ریاست کے حوالے کیا جاناچاہیے کیونکہ پانی بھی ریاست کا ہے ، زمین بھی ریاست کی ہے اور اس سے پیدا ہونی والی بجلی کا حق بھی ریاستی عوام کا حق ہے ۔فاروق احمد ڈار نے صاف کیا ’’ این ایچ پی سی کو آج بھی اور کل بھی تمام بجلی پروجیکٹ چھوڑنے ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر یہ پروجیکٹ این ایچ پی سی کے زیر قبضہ رکھنے کی اجازت نہیں دیںگے‘‘  ۔ انہوںنے کہا ’’ اب بہت ہوچکا ، ہم نے بہت کچھ کھویا، اب کھرے کو کھرااور کھوٹے کو کھوٹا کہنے کا وقت آچکاہے‘‘۔ مجو زہ ریتلی پن بجلی پروجیکٹ کو  این ایچ پی سی کو سپرد کرنے پرکشمیر اکنامک الائنس نے کہا کہ انتظامی کونسل نے 5 ستمبر کو میٹنگ میں 850میگاواٹ ریتلی پن بجلی پروجیکٹ کی اشتراکی تعمیرکیلئے مرکزی پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ کے ساتھ علیحدہ مشترکہ کمپنی قائم کرنے کو منظوری دی ہے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ کی طرف سے اس پروجیکٹ کی مرکز کے ساتھ منظوری کو براہ راست آئین ہند کی شق35ائے اور دفعہ370 پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس پروجیکٹ میں مرکزی شراکت داری کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ کشمیر اکنامک الائنس کے شریک  فاروق احمد ڈار نے کہا کہ ریاست کے پاس معقول تجربہ،ماہرین اور اہل انجینئر و فنی عملہ موجود ہیں اور وہ نئے بجلی پروجیکٹ کو از خود تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اس پروجیکٹ کیلئے درکار رقومات آبیانہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ڈار نے کہا کہ نئے بجلی پروجیکٹ کیلئے شراکت دار کو ریاستی انتظامیہ کونسل کی طرف سے کھڑا کرنا عوامی مفادات کے خلاف ہے،جبکہ ریاستی انتظامی کونسل کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہے کہ جموں کشمیر کے پاس محدود وسائل ہے۔انہوں نے کہا کہ کشتواڑ کے دریاے چناب پر درب شالہ میں ریتلی پروجیکٹ جموں کشمیر میں قابل کشش اور پرکشش پروجیکٹ سمجھا جاتا ہے،اوریہ 6 ہزار کروڑ روپے سے2017میں مکمل ہونا تھا،تاہم4 برسوں کی تاخیر سے نہ صرف پروجیکٹ کی قیمت میں اضافہ ہوا،بلکہ اس سے توانائی کے حصول کا بھی نقصان ہوا،جبکہ اس کی تکمیل اب2022 تک ہوگی۔