پری پیڈ صارفین پر شدید ضرب

 سرینگر //جی ایس ٹی کی مار بی ایس این ایل پری پیڈ صارفین پر بری طرح پڑرہی ہے کیونکہ 50روپے کے ریچارچ پر اب صارفین سے 11روپے ٹیکس وصول کیا جانے لگا ہے۔جبکہ 100 روپے کے ریچارچ پر صارفین کے 18روپے کاٹے جاتے ہیں۔ اس طرح جی ایس ٹی کے اطلاق سے صارفین کو50روپے کے ریچارچ پر تین گنا اور100روپے کے ریچارچ پر پانچ گنا ٹیکس کاٹا جاتا ہے ۔ معلوم رہے کہ جی ایس ٹی کے اطلاق سے قبل صارفین کو 100اور 50روپے کے ریچارچ پر صرف 3 روپے ٹیکس کٹتا تھا ۔ 100روپے کے ریچارچ پر اب 15روپے زیادہ کٹتے ہیں اور 50روپے کے ریچارچ پر 8روپے زیادہ ٹیکس کاٹا جاتا ہے ۔بی ایس این پری پیڈ فون استعمال کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ سرکار نے جی ایس ٹی کے اطلاق سے لوگوں کو راحت پہنچانے کے دعوے کئے تھے لیکن جس طرح سے جی ایس ٹی کے نفاذ کی تلوار اب صارفین پر گر رہی ہے اُس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ اس سے صارفین کو کتنا فائدہ پہنچے گا ۔جی ایس ٹی سے قبل پچاس روپے کے ریچارج سے صارفین کو 47روپے کا ٹاک ٹائم ملتا تھا لیکن اب 11روپے کٹ جاتے ہیں،یقینی 50کے ریچارج سے صارفین کو صرف 39روپے ہی ملتے ہیں ۔ اس طرح تین گنا سے زائد ٹیکس کاٹاجاتا ہے ۔پہلے 100میں سے 97روپے کا ری چارچ ملتا تھا لیکن اب 18 روپے کی کٹوتی کی جاتی ہے۔ اس طرح اب 20روپے کے ریچارج پر بھی 4روپے ٹیکس کٹ جاتے ہیں ۔مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ بی ایس این ایل سرکاری کمپنی ہے اور اگر اس پر اتنا ٹیکس کٹے گا تو آنے والے دنوں میں اس کمپنی کے سم کارڈ استعمال کرنے والوں میں کمی واقع ہو گی ۔