پرینکا گاندھی بھاجپا کے خلاف آندھی؟

کانگریس  صدر راہل گاندھی نے اپنی بہن پرینکا کو مشرقی یوپی اور جیوترادتیہ سندھیہ کو مغربی یوپی کا جنرل سیکریٹری اور انچارج بنا کر یوپی کی سیاست میں ایک ہیجان پیدا کر دیا ہے۔میں اپنے ایک سیاسی مبصر دوست سے کہا کرتا تھا کہ راج ببر کو ڈھونے کی ایسی کون سی مجبوری ہے جو کانگریس نبھا رہی ہے۔اسی طرح اظہرالدین کا بھی معاملہ ہے۔الیکشن سے ذرا قبل انہیں تلنگانہ کا کارگزار صدر بنا دیا گیا ۔ایسے لوگ پارٹی کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔یہ اور بات ہے کہ دو ایک حلقوں پرکامیابی ضرور دلوا سکتے ہیں لیکن پارٹی کوچہار جانب فروغ نہیں دے سکتے۔ ایسے لوگوں کو جلسوں میں دیکھنے کیلئے اب تو لوگ بھی نہیں آتے کیونکہ یہ لوگ اب کرشمہ کھو چکے ہیں اور نئے لوگوں اور چہروں کو آگے کرنے کی ضرورت ہے۔اس لئے کانگریس صدر کا فیصلہ بروقت ، سیاسی حساب دانی کی الٹ پلٹ کرنے والا اور خاصا ڈرامائی ہے۔ پرینکا فیکٹر سے مخالف خیمے میں کھلبلی مچ گئی ہے۔خاص طور پر بی جے پی حد سے زیادہ بوکھلاگئی ہے اور اس کے لیڈران کانگریس کی اس نئی اسٹرٹیجی کو کوسنے اور غلط سلط بیانات کا الاؤ جلانے پر مجبورہو گئے ہیں۔چند ایک تو پر ینکا سے اتنا خوف زدہ ہیں اور کوئی ان کی عملی سیاست میں آمد پر ایسا نوشتہ ٔ دیوار پڑھ رہے کہ بوکھلا کرا ن کی کردار کشی تک پر اتر آیا ہے۔وزیر اعظم سے لے کر پارٹی ترجمانوں اوربیان باز بریگیڈ بشمول وزرا ء اندرا گاندھی کی پر چھائی کہلانے والی پر نیکا  کے خلاف دل کے پھپھولے پھوڑ رہے ہیں اور اپنے اپنے غصے کے درجۂ حرارت کے عین مطابق کانگریس کی نئی صف بندی کو کوس رہے ہیں۔بہار کے ایک وزیر ونود رنجن جھاانے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کانگریس اب بقول ان کے’’ اپنے چکنے چہرے ‘‘سے کام لے رہی ہے اور خوبصورت عورت کو سیاسی میدان میں اُتارا ہے تاکہ کچھ فائدہ حاصل کر سکے۔
بی جے پی کی جانب سے ان بیان بازیوں کا کیا مطلب ہے؟اگربھاجپا سمجھتی کہ پرینکا کوئی فورس یا طاقت نہیں ہیں تو انہیں نظر انداز کرتی لیکن انہیں پتہ ہے کہ پرینکا کے سیاسی میدان میں اترنے سے ان کا کھیل مزید بگڑ جانے والا ہے کیونکہ کانگریس زیادہ تر ووٹ تو بی جے پی ہی کا کھائے گی۔ایک دوسری بات پرینکا کے تعلق سے جو نظر آرہی ہے وہ مایا وتی اور اکھلیش کی نپی تلی خاموشی ہے ۔ یہ چیز سیاسی پنڈتوں کو مارے جا رہی ہے۔دونوں نیتاؤں نے پرینکا کے تعلق سے ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں بھی پرینکا کو ایک کرشماتی فورس سمجھ رہے ہیں اور( یہاں کی زبان میں)  پنگا  نہیںکرنا چاہتے۔ویسے بھی راہل گاندھی نے پرینکا کے نام کا امیٹھی میں اعلان کرتے ہوئے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میںسماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کے تعلق سے دوستانہ مراسم کی بات کر کے اکھلیش اور مایا وتی سے ٹکراؤ کو خارج کر دیا ہے ۔اس طرزگفتار سے راہل کی سیاسی بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔چھ سات ماہ پہلے تک’’ پپو‘‘ جیسی بے ہودہ اصطلاح سے یاد کئے جانے والے راہل سے بی جے پی کے لوگ اب خوف کھانے لگے ہیں۔پرینکا اور جیوترادتیہ سندھیا کی تقرری کے بعد مخالفین بھی اب کہنے لگے ہیں کہ’ ’پپو‘‘ بھی ماسٹر اسٹروک لگانا جانتا ہے اور ضرورت پڑنے پر حریف کیمپ کی ناک میں دم کر سکتا ہے۔ 
 اس میں دورائے نہیں کہ ہندی بیلٹ کہلانے والی تین ریاستوں میں حالیہ اسمبلی الیکشن کے پس منظر میں بی جے پی کی جودُرگت ہوئی،اوہ اس صدمے سے شاید ہی نکل باہر آئے گی ۔ چنانچہ جس جوش و خروش کے ساتھ ۲۰۱۴ء کے پارلیمانی الیکشن میں اس نے بازی ماری تھی وہ جوش اب معدوم ہو چلا ہے ، یہاں تک کہ پارٹی ورکروں میں وہ جذبہ یا جنون کہیں نظر نہیں آتا جو ۲۰۱۳ ء میں ان کی رگوں میں لہو بن کر د وڑ رہا تھا۔اگرچہ اُس وقت پارٹی کے صدر امیت شاہ نہیں تھے لیکن جس صوبے پر انہوں نے محنت کی تھی، وہاں انہیں اچھا پھل ملااوروہ اُترپردیش کی ۸۰؍ میں سے ۷۳؍سیٹیں جیت گئے تھے ،ان میں ان کی اپنی پارٹی کی ۷۱؍ سیٹیں تھیں۔اگر پوری سیٹیں(۲۸۳) جو ملک بھر میں بی جے پی نے جیتی تھیں، کو شرح فیصد کے آئینے میں میں جانچا جائے تو یوپی کی حصول یابی ۳۰؍فیصدی بنتی ہے یعنی تقریباًایک تہائی۔اس جادوئی جیت کے سبب امیت شاہ ایک اچھے حکمت سازاور کامیاب منتظم سمجھے گئے اور انہیں بی جے پی کی صدارتی کرسی سونپ دی گئی۔ غور کریں تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ کسی پارٹی کا صدارتی منصب یوپی ہی سے ہو کر گزرتا ہے،اسی طرح سے وزیر اعظم کا عہدہ بھی۔وہ اس لئے کہ امیت شاہ سے قبل یوپی کے راجناتھ سنگھ بی جے پی کے صدر تھے اور جیتنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے بنارس کی پارلیمانی سیٹ کو رکھنا مناسب سمجھا۔اس طرح گجرات کے ہوتے ہوئے بھی نریندر مودی یوپی سے وزیر اعظم کہلائے۔یوپی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ۹۰؍فیصد سے زیادہ یہیں سے وزیر اعظم ہوئے ہیںاور جو ابھی لائن میں ہیں، ان کی ترجمانی یوپی ہی سے ہے مثلاًراہل گاندھی،پرینکا گاندھی،ورون گاندھی،مایا وتی وغیرہ۔یہ اور بات ہے کہ آگے کون نکل کے آجائے،کہا نہیں جا سکتا جس طرح دیوگوڑا،نرسمہا راؤ وغیرہ۔
جب تک یوپی ایک بڑی ریاست رہتی ہے اور اس کی پارلیمانی سیٹیں ۸۰؍رہتی ہیں اُس وقت تک یوپی کی سیاسی اہمیت سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے یوپی کی سیاسی اہمیت کم کرنے کیلئے اس کی تقسیم ضروری ہے۔اگرچہ ایک بار تقسیم عمل میں آچکی ہے جس کے نتیجے میں اُترا کھنڈوجود میں آیا ہے اور یہ سب دیکھ اور محسوس کر رہے ہیں کہ جو سیاسی ہوا یوپی میں چلتی ہے وہ قطعی اُتراکھنڈ میں نہیں چلتی اور ظاہر ہے کہ عوام کی وفاداریاں ان دوجگہوں پرمختلف ہوتی ہیں۔مس مایاوتی یوپی کو چار حصوں میں تقسیم کی وکالت کر چکی ہیںاور اب جو کانگریس صدر راہل گاندھی نے کیا ہے،وہ ایک طرح سے یوپی کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔اگرچہ کام کی سہولت کے حساب سے انہوں نے ایسا کیا ہوگا لیکن ایسا بھی ممکن ہے کہ ان کے دماغ میں یوپی میں اقتدار حاصل کرنے کے تعلق سے کچھ چل رہا ہو۔اقتدار حاصل کرنے کیلئے تو سیاست دانوں کو ہر طرح کی چھوٹ ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جا سکیں۔سبھی کو یاد ہوگا کبھی لالو یادو نے کہا تھا کہ جہارکھنڈ میری لاش کے اوپرسے ہوکر بنے گا لیکن کیا ہوا ؟جہارکھنڈ وجود میں آیا اور تقریباً ۱۵؍برس ہو بھی گئے ۔بہار اور جہارکھنڈ کی سیاست بالکل ہی الگ الگ ہے۔جہارکھنڈ اور بہاراگر اب بھی ساتھ ہوتے تو نتیش یا لالویا بہار ہی کا کوئی حکومت کر رہا ہوتا۔سچ پوچھئے تو الگ ہونے یا کرنے سے بی جے پی کو ہی فائدہ ہوا۔
مشرقی یوپی کو آپ اترپردیش کاحساس خطہ کہہ سکتے ہیں ،بالخصوص بی جے پی کیلئے کیونکہ اس میں وزیر اعلیٰ یوگی کاگورکھپور بھی ہے،وزیر اعظم مودی کابنارس بھی اوروزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا لکھنؤ بھی ہے اور امیٹھی اور رائے بریلی کے ساتھ ورون گاندھی کا سلطان پور بھی اسی میں آتا ہے اور نہرو گاندھی کا گڑھ کہا جانے والا علاقہ الہ آباد بھی اور مسلمانوں کی سیاسی اہمیت کے اظہار کا خطہ اعظم گڑھ بھی۔یوپی کا یہ خطہ ہی ایس پی اور بی ایس پی کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ایک طرح یہ چیلنج سے بھرا ہوا کام ہے ۔پرینکا کے آنے سے بی جے پی کی پوری بساط ہی اُلٹ سکتی ہے، اور سیاسی حلقوں میںایسی قیاس آرائیاں شروع بھی ہو گئی ہیں۔اگر ایس پی ،بی ایس پی اتحاد کانگریس سے دو دو ہاتھ کرتا ہے تو بہت حد تک ممکن ہے کہ اتحاد ہی نقصان میں رہے۔اس لئے پرینکا کا کارڈ کھیل کر راہل گاندھی نے ایس پی اور بی ایس پی کو اتحاد پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔اگر یہ تینوں پارٹیاں مشترکہ حریف بھاجپا کے خلاف متحد ہو گئیں جس میں آر ایل ڈی بھی ہے تو سیاسی مبصرین یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بی جے پی کو ۵؍سے زیادہ سیٹیں نہیں ملیں گی اور اس میں پارٹی کے نام نہاد اتحادی بھی شامل ہوں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ اتحادی کانگریس کی طرف آجائیں۔
 یہ بات کسی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ ایک ہندوستان کی قومی سیاست ہی کیا، دنیا کی تمام سیاسی دنگلوں میں کسی مقبول عام چہرے یا موثر شخصیت کا خاصا دخل ہوتا ہے۔یہ شخصیتیں ہی ہوتی ہیں جو اقتدار پر قابض ہوتی ہیں خواہ یہ جمہوریت ہو کہ بادشاہت۔فرض کریں کہ مودی جی کی جگہ پر راج ناتھ سنگھ کو ۲۰۱۳ء میں بی جے پی ،پی ایم کیلئے پروجیکٹ کرتی ،تو کیا ویسے ہی نتائج آتے جو مودی جی کو پروجیکٹ کرنے سے منظر عام پر آگئے؟ظاہر ہے کہ اس کا جواب ’نا‘ میں ہے۔اگر بی جے پی کیلئے’ شخصیت ‘اور ’شخصیت پرستی‘ کام کرسکتی ہے تو یہی چیز دوسروں کے لئے کیوں نہیں کر سکتی؟ یہ کہاں کی عقل مندی ہوئی کہ آپ کی شخصیت ،شخصیت ہے اور دوسروں کی شخصیت ،شخصیت نہیں ۔یہ تو صراحتاً دوغلی سوچ اور دورُخاپن ہے ۔ یہاںیہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کی شخصیت تو مانگے کی ہے یعنی دوسروں کے ذریعے بنائی گئی ہے جس میں اندھے بکاؤ میڈیا کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ ورلڈکا بڑا عمل دخل ہے اور ا س میں آرایس ایس کی برسوں کی قبال نفرین محنتیں اور جوڑ توڑ کی سیاستیں بھی شامل ہیں ۔اس کے پہلو بہ پہلو سوشل میڈیا کے فیس بک ،ٹویٹر، وہاٹس ایپ اور نہ جانے کن کن ایپوں اورآئی ٹی پروگراموں کے ذریعے گجرات قتل عام کے پس منظر میں ایک متنازعہ فیہ شخصیت کو ملک کا نجات دہندہ ، اچھے دنوں کا ضامن، روزگار کے مواقع پیدا کرنے والا منصوبہ ساز، مہنگائی کے عفریت کو مار بھگانے والا ماہر، بدعنوانیوں اور کورپشن کا خاتمہ کر نے والا مسیحا اور نہ جانے کیا کیا بنا کر پیش کیا گیا مگر اس شخصیت سے عام آدمی کو ملاکیا ؟ مزید مہنگائی اور بے روزگاری ، نوٹ بندی کی سزا، جی ایس ٹی کی مار ، گورکشکوں کے ہاتھوںمسلمانوں کا قتل ِ ناحق ، ہجومی تشدد اور ہلاکتیں ، دلتوں پر حملے، وجے مالیہ اور نیرو مودی کی لوٹ کھسوٹ اور قانون کو چکمہ دے کر ملک سے فرار، سہ طلاق بل جیسی بے وقت کی راگنیاں ، ریزورو بنک آف نڈیا ، سی بی آئی اور دوسرے قومی اداروں کی بدنظمیاں  وغیرہ وغیرہ!!!! اس شخصیت کے مقابلے کانگرین نو مقررہ جنرل سیکر ٹری پرینکاکی شخصیت تو زر ِ خالص کی مانند تادم تحریر غیر متنازعہ ہے ، ا س شخصیت کی تعمیر میں تاریخ اور تعلیم اور تربیت کا اینٹ گارا لگا ہے۔ ہاں ، اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ یہ شخصیت عملی سیاست میں قومی مفاد میں ڈیلیور کر پائے گی یا نہیں۔ ا س لئے جہاںبھاجپا کا مودی کرشمہ ہوا کا جھونکا ہے،،وہاں کانگریس کی نئی خاتون نیتا ایک مستقل ذات کانام ہے جس کی پشت پر ان کی دادی جی اندراگاندھی اور پتا شری راجیو گاندھی کا بلیدان ہے ۔یہ سیاست میں کامیاب رہیں یا نہ رہیں ،ان کا کرشمہ اتہاس میںہمیشہ قائم و دائم رہے گا، چاہے بھاجپا نہرو حاوی اتہاس کو مٹانے میںکتنا ہی زور لگائے۔
 افواہ یہ گشت کررہی ہے کہ ورون گاندھی کانگریس میں لوٹ آئیں گے کیونکہ ان کی پرینکا سے خاصی بنتی ہے۔ان کے ساتھ کئی ایم پی بھی آسکتے ہیں جنہیں ڈر ہے کہ مودی اور امیت شاہ کی جوڑی انہیں دوبارہ ٹکٹ نہیں دے گی۔ورون گاندھی کو جس طرح بی جے پی نے گزشتہ دو برسوں سے کنارے لگایا ہے، وہ جگ ظاہر ہے۔مینکا گاندھی چاہتی تھیں کہ ورون کو ہی یوپی کے وزیر اعلیٰ کیلئے بی جے پی پیش کرے لیکن جس حقارت سے ان کی چاہت کو ٹھکرایا گیا تھا وہ توخیر بھول نہیں سکتیں ۔ورون بھی انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں اور اسے بس تیلی دکھانے کی ضرورت ہے جو پرینکا کر سکتی ہیں۔ماں کی چاہت بیٹے کے کانگریس میں شامل ہونے سے پوری ہو سکتی ہے۔مینکا بھی کانگریس میں جا سکتی ہیں کیونکہ اب اس عمر میں کھٹاس کی کوئی جگہ نہیں اور سیاست کون سے اصول و ضوابط کی جگہ ہے جو تازیست نبھائی جائے؟ 
پر ینکا فیکٹر کے سبب یوپی میں ایسا بہت کچھ ہونے کی توقع ہے جو ملک بھر میں ایک سیاسی طوفان لاسکتا ہے۔ رائے عامہ کے تجزئیے(opinion – poll) والے این ڈی اے کو ۲۲۳؍سیٹیں دے رہے ہیں جن میں شیو سینا بھی شامل ہے،وہیں یو پی اے کو ۱۶۷؍ نشستیں،یہ پرینکا فیکٹر سے پہلے کے اعداد و شمار ہیں۔اگر کا نگریس کا یہ فیکٹر ووٹنگ میں مطلوبہ کام کرتا ہے تو بھاجپا کی گنتی اُلٹی بھی ہو سکتی ہے۔ پر ینکا کو میدان میں اتارنے سے جو تاثر ملتا ہے اس کے پیش نظر یہ کہنے میں کوئی دشواری نہیں کہ ’’اب کانگریس کام کر رہی ہے اور سوچ سمجھ کر کر رہی ہے‘‘۔
( نوٹ :مضمون نگار ماہنامہ تحریرِ نو ، نئی ممبئی کے مدیر ہیں  رابطہ9833999883)