پریشانیوں سے بچاؤ کے لئے نبویؐ دعائیں

’’اگر اللہ تعالیٰ سے سوال نہ کیا جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں، اور اس کے برعکس انسان کا یہ حال ہےکہ اگر اس سے مانگیں تو ناراض ہوجاتا ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم اور محبوب ترین عبادت دُعا ہے، جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔زندگی نام ہی ہےکشمکش کا، چونکہ اس کشمکش میں انسان کئی مراحل طے کرتا ہے، مختلف ادوار سے گزرتا ہے۔ انسان پر کٹھن وقت آنے کی دیر ہوتی ہے کہ انسان کم ہمت محسوس کرنے لگتا ہے جوکہ فطرت ِانسانی ہے۔آلام و مصائب جب درپیش ہوتے ہیں، تب انسان ان سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنے لگتا ہے،کیونکہ پریشانیوں سے انسان کی زندگی بکھر جاتی ہے۔لیکن ایک مومن کو اس طرف بھی التفات کرنا چاہیے کہ بعض اوقات یہ آلام رحمت کی شکل میں نازل ہوتے ہیں، کبھی گناہوں کی سزا بن کر تو کبھی ایمان کا امتحان لینے کی صورت میں۔اللہ تعالیٰ کی سنت رہی ہے کہ اللہ رب العزت اپنے محبوب بندوں کو آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے۔ شریعت ہمیں ہر حال میں صبر و شکر کرنے کی تلقین کرتی ہے نیز رب العالمین پر توکل کرکے اسی کے سہارے کو مضبوطی سے تھامنے کا درس دیتی ہے۔عقیدہ توحید کا امتحان آلام و مصائب سے ہی ہوتا ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ آلام و مصائب سے زندگی کا توازن برقرار رہتا ہے ورنہ انسان تو خدائی کا دعویٰ کرے۔سلف صالحین کے عملی تجربے سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ پریشانیوں سے انسان کا رشتہ رب العزت سے زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے۔مختصراً مومن مصیبت کے وقت نکھر جاتا ہے اور منافق مصیبت کے وقت بکھر جاتا ہے۔ 
نزول مصیبت کے وقت جہاں شریعت نے ہمیں اس بات کی رہنمائی فرمائی ہے کہ اپنے گناہوں سے عملی توبہ کر کے رجوع الی اللہ کیا جائے اور اعمال صالحات کا ذخیرہ جمع کیا جائے وہیں شریعت ہمیں مناجات کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے۔اللہ سے کثرت فریاد، رب کے دربار میں عاجزی سے ہاتھ پھیلا کر بخشش طلب کرنا اور پریشانیوں سے نکلنے کی راہیں طلب کرنا عظیم نسخہ ہے۔انسان کسی بھی طرح اللہ سے دعا کر سکتا ہے جو شرعی حدود کے تابع ہو لیکن بہترین وہی طریقہ اپنانا ہے جس کی تربیت نبی کریمؐ نے صحابہ ؓکو کی۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ اذکار پڑھ کر انسان کو اُن الفاظ کا علم، فہم بھی ہونا چاہئے جو زبان سے ادا کئے جارہے ہیں۔کیونکہ جو الفاظ بغیر تفقہ کے پڑھے جاتے ہیں، ان کی تاثیر سے بندہ محروم ہوجاتا ہے اور ان کا فائدہ قلیل ہوتا ہے۔اس ضمن میں کتب احادیث میں اذکار کا ایک ذخیرہ موجود ہے جو انسان ایسے حالات میں پڑھ سکتا ہے لیکن ان میں سے بھی چار دعا ایسے ہیں جن کو سلف صالحین کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔                   
پہلی دُعا۔شمس المحدثین محمد بن اسماعیل بخاری ؒ سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت لائےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے ’’لا اله الا الله العظيم الحليم، لا اله الا الله رب العرش العظيم، لااله الا الله رب السموات ورب الارض ورب العرش الكريم‘‘۔ ترجمہ ’’اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے۔‘‘(رقم الحدیث :6346) 
بے بس کی پکار سننے والا فقط اللہ کی ذات ہے۔وہی مصیبت نازل کرنے والا اور وہی دور کرنے والا ہے۔فرمان ربانی ہے کہ (ترجمہ) ’’بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے اور برائی کو دور کرتا ہے اور تمہیں زمین میں نائب بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے، تم بہت ہی کم سمجھتے ہو‘‘۔ (سورۃ النمل:62) 
  دوسری دُعا۔امام ابوداؤدؒ نے اپنی سنن کے اندر روایت نقل فرمائی ہے، جس کے راوی سیدنا ابوبکرؓ ہیں۔ وہ مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ ’’پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے ۔اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ‘‘۔ترجمہ:’’اے اﷲ ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں ‘ تو مجھے آنکھ جھپکنے تک کے لیے بھی میری اپنی جان کے حوالے نہ فر دے ‘ اور میرے سارے معاملات درست فرما دے ‘ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں‘‘(رقم الحدیث:5090)اس روایت کو محدث البانی  ؒنے صحیح قرار دیا ہے) انسان کے دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن انسان کا اپنا نفس ہے جو اُسے گناہوں پر ابھارتا ہے، پھر انہیں گناہوں کی وجہ سے بندے کو حسرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر نفس کے شر سے پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ یہ بہت پیاری دعا ہے جسے معمول بنانا ہمارے لئے نفع بخش ثابت ہوگا ۔ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا محتاج ہے، ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رہبری کا محتاج ہے۔وہی ذات مبارکہ راہ دکھلانے والی، ثابت قدم رکھنے والی ہے۔ان اذکار میں بار بار توحید ربانی کی گواہی دی جارہی ہےاور اسی کے لئے نجات کا راستہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہوسلم نے بیان فرمایا ہے۔ 
 تیسری دعا ۔ امام ابوعیسیٰ ترمذیؒ اپنی الجامع کے اندر مرفوعاً روایت نقل فرمائی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ’’ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی دُعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: ’’لا اله الا انت سبحانك اني كنت من الظالمين‘‘۔’’تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالم (خطاکار) ہوں‘‘۔ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا(رقم الحدیث :3505 )اس روایت کو محدث البانی  ؒ نے صحیح کہا ہے)یہ مسنون دعائیں ایک وسیلہ ہے جسے اختیار کرکے پریشان حال انسان فریاد کرسکتا ہے۔ پریشانیاں تین طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک ہے ’’ھم ‘‘یہ وہ پریشانی ہے جس کا تعلق مستقبل سے ہو۔ دوسرا ہے ’’حزن‘‘ یہ وہ پریشانی ہے جس کا تعلق ماضی سے ہو اور تیسرا ہے ’’غم‘‘ جس کا تعلق حال سے ہو۔یہ مسنون اذکار تینوں کیفیات میں کارگر ثابت ہوتی ہیں۔
  چوتھی دعا ۔امام ابن ماجہ ؒ نے اپنی سنن کر اندر اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت لائی ہے کہ اُن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کی رہنمائی فرمائی کہ، ’’میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں ۔وہ کلمات یہ ہیں:’’الله الله ربي لا اَشرك به شيئا‘‘۔’’اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی‘‘۔(رقم الحدیث، 3882 )اس روایت کو محدث البانی  ؒ نے صحیح قرار دیا ہے۔انسان کے پاس سب سے بڑا اور قیمتی سرمایہ توحید باری تعالیٰ ہے۔ بار بار اپنے رب کو یاد کرنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔مذکورہ چاروں دعاؤں کے ساتھ ساتھ معصیت سے توبہ کریں، صدقہ کریں، حرام رزق سے خود کو بچائیں، قرآن  پر تدبر کریں، اپنے عقیدہ کی حفاظت کریں۔ آلام و مصائب کے وقت ایمان کے ڈاکو تاک میں لگے ہوئے ہوتے ہیں کہ کس طرح آپ سے ایمان کی دولت چھین لیں۔اللہ تعالیٰ پر ہی اُمیدِ کامل رکھ کر اسی کے در کے سائل بن جاؤ تاکہ آپکی دنیا و آخرت آباد ہوجائے۔اللہ ہماری پریشانیوں کو دور فرمائے۔آمین
 (مدرس:سلفیہ مسلم ہائر سکینڈری پرے پورہ،رابطہ نمبر6005465614)