پریس کلب عمارت کی الاٹمنٹ کی منسوخی غیرجمہوری:سوز

سرینگر//سابق مرکزی وزیرپروفسیر سیف الدین سوز نے انتظامیہ سے تاکید کی ہے کہ وہ کشمیرپریس کلب کی عمارت چھیننے کے حکم کو واپس لیں کیوں کہ اس سے انتظامیہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگابلکہ صرف بدنامی حاصل ہوگی۔ ایک بیان میں سوز نے کہا، ’’ہندوستان کو دنیا میں ایک جمہوری ملک مانا جاتا ہے اور اس ملک کو جمہوریت کے طور تسلیم کرنے کے پیچھے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں میڈیا یعنی ذرایع ابلاغ کو اظہار خیال کرنے کی آزادی ہے۔ اس آزادی کو چھیننے کا کام جو بھی کرے گا ،وہ ہندوستان کی جمہوری نظام کے خلاف کام ہوگا‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ریاستی انتظامیہ نے پریس کلب کی الاٹمنٹ کو منسوخ کر کے نہ صرف غیر جمہوری کام کیا ہے بلکہ ہندوستان کی جمہوریت پر بھی داغ لگادیا ہے۔کیا ریاستی انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ کشمیر کا میڈیا انتظامیہ کے حق میں گیت گاتے رہیں؟۔اگر ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ،تو کشمیر بھی اسی جمہوریت کا حصہ ہے۔ ایسے اقدامات سے انتظامیہ کیلئے عوامی حمایت اور زیادہ کمزور ہو تی ہے۔میں انتظامیہ کو تاکید سے کہتا ہوں کہ اس طرح کے احکامات کو فوری طور واپس لے ۔مجھے پورا احساس ہے کہ ایسے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے انتظامیہ کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ صرف بدنامی حاصل ہوگی۔