پریس کالونی میں میڈیکل اسٹنٹوں کامظاہرہ

سرینگر //میڈیکل اسسٹنٹوںنے فارمیسی کونسل کی رجسٹریشن کرنے کی مانگ کو لیکر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پریس کالونی لالچوک میں میڈیکل اسسٹنٹ کورس مکمل کرنے والے متعدد نوجوان جمع ہوئے اور الزام عائد کیا کہ حکومت ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین کاکہنا ہے کہ مرکزی فارمیسی ایکٹ لاگو ہونے سے ان کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے اور تمام اعلیٰ افسران کے دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود بھی ان کو درپیش مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کوئی بھی کوششیں نہیں کی جارہی ہےں‘۔
مظاہرین نے کہاکہجموں و کشمیر میں مرکزی فارمیسی ایکٹ کے اطلاق سے 20ہزار سے زائد نوجوانوں کا مستقبل داﺅ پر لگا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر میں 31اکتوبر 2019کو مرکزی فارمیسی ایکٹ لاگو ہونے سے سٹیٹ فارمیسی ایکٹ 2011ختم ہوگیا ہے جسکی وجہ سے جموں و کشمیر میں صرف بی فارمیسی، ایم فارمیسی اور ڈی فارمیسی کرنے والے افراد ہی سرکاری محکمہ جات میں فارمسسٹ کی اسامیوں کیلئے درخواست دے سکتے ہیں اور ادویات فروخت کرنے کی نجی دکانیں قائم کرسکتے ہیں۔ مرکزی سرکار کے فارمیسی ایکٹ 1948میں میڈیکل اسسٹنٹ کورس تسلیم شدہ نہیں ہے جسکی وجہ سے انہیں محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول فارمیسٹ ہونے کی لائسنس اجرا ءنہیں کررہا ہے ۔ جموں و کشمیر میڈیکل اسسٹنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ناصر الدین ملہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ” 3ماہ ہوگئے ہیں اور کسی بھی سرکاری دفتر یا افسر سے ہمیں کوئی یقین دہانی نہیں مل رہی ہے اور ہم سب در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور اس وجہ سے ہم سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور ہوگئے ہیں‘۔
انہوں نے کہا ” پچھلے ایک ماہ سے لگاتار مظاہروں کے باوجود بھی سرکار کی جانب سے ابتک کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا جبکہ دوسری جانب وادی کے نیم طبی کالجوں میں میڈیکل اسسٹنٹوں کے کورسوں کیلئے امیدواروں کا داخلہ جاری ہے ۔ ناصر ملہ نے سوالیہ انداز میں پوچھا ” جب کورس کو سرکار تسلیم نہیں کرتی تو پھر دوبارہ امیدواروںکا داخلہ کرکے انکا مستقبل تاریک بنانے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا” جب ہم کالج انتظامیہ کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ نہ تو ہم تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کی کوئی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہی میڈیکل اسسٹنٹوں کے کورسوں میں داخلوں کو روک سکتے ہیں کیونکہ فارمیسی کونسل سے ابتک کوئی بھی حکم نامہ جاری نہیں ہواہے۔ ناصر ملہ نے کہا ” ہم جموں و کشمیر سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ میڈیکل اسسٹنٹوں کو فارمیسی سند جاری کرکے بے روز گار ہونے سے بچائیں ۔