پریس کالونی میں سکھ برداری کا احتجاجی مظاہرہ | نئے زرعی قانون کے خلاف پنجاب میں برسراحتجاج کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

سرینگر//نئے زرعی قانون کے خلاف پنجاپ میں احتجاج کر رہے سکھوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے پریس کالونی میں بھی سکھ طبقہ نے حتجاج کیا ۔ سوموار کی سہ پہر پریس کالونی میں  گرومت ٹکسال اور انٹرنیشنل گرومت اسٹڈیزکے بینر تلے سکھ برداری نے احتجاج کیا اور مرکزی سرکاری کے خلاف نعرہ بازی کی۔اس موقعہ پر انہوں کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے،جن پر انہوں نے زراعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ستمبر میں مرکزی حکومت کے ذریعے متعارف کروائے جانے والے زرعی قانون کی مخالفت میں ’دہلی چلو‘ نعرے کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھاحکومت کی جانب سے انہیںدلی میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو حل کیا جائے اور کسانوں کو بچانے کیلئے قانون کو واپس کیا جائے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے بتایا کہ یہ بل جو پاس کی گئی ہے اس کو ختم کیا جائے کیونکہ یہ کسانوں کے بالکل خلاف ہے اور احتجاجی کسانوںپر ہو رہے ظلم و زیادتیوںکو روک دیا جائے ۔ انہوں نے ہریانہ سرکار پر’’ ریاستی دہشت گردی‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو نہ صرف ہراساں کیا بلکہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ جو کسان تمام لوگوں کیلئے اناج کا انتظام کرتے ہیں ان غریب کسانوں کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کرنا ان کے ساتھ سب سے بڑی نا انصافی ہے۔