پریس کالونی میں بے روزگارنوجوانوں کا احتجاج

سرینگر// ریاستی انتظامی کونسل کی طرف سے حالیہ فیصلے کے خلاف سرکاری محکموں میں حصول روزگار کے خواہشمند امیدواروں نے احتجاج کرتے ہوئے رہبر تعلیم ٹیچروں کوجنرل لائن اساتذہ اور لکچروروں کی اسامیوں پر مستقل کرنے کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔پریس کالونی لالچوک میں پیر کو متعدد بے روزگار نوجوان جمع ہوئے اور ریاستی انتظامی کونسل کے اُس فیصلے کے خلاف احتجاج کیاجس میں مبینہ طور رہبر تعلیم اساتذہ کو مستقل کر کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقعوں کو بند کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارر اٹھا رکھے تھے،جن پر’’ ہمیں انصاف دو، ریاستی انتظامی کونسل کے فیصلے کو منسوخ کرو اور ہمارے مستقبل کو بچائو‘‘ کے نعرے درج تھے جبکہ گورنر انتظامیہ کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ اس موقعہ پر احتجاجی مظاہرین نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی انتظامی کونسل کے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں،جو پہلے سے تعینات رہبر تعلیم کے اساتذہ کے حق میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا’’ہمارا مطالبہ ہے کہ ریاستی انتظامی کونسل رہبر تعلیم اساتذہ کو مستقل کرنے کے حالیہ فیصلے کو واپس لے۔‘‘انکا کہنا تھا سرکار رہبر تعلیم اساتذہ کو جنرل لائن اور لیکچراروں کیلئے مستقل کر رہی ہے،جبکہ ان میں اس اسامیوں کیلئے کچھ اہل نہیں ہے۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ37فیصد تعلیم یافتہ نوجوان،جن میں پی ایچ ڈی اسکالر بھی شامل ہیں،اور وہ روزگار کی تلاش میں ہیں،اور ان میں سے کچھ نوکری حاصل کرنے کی عمر کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔