پرونئی ہائیڈل پاور پروجیکٹ مسلسل سست روی کاشکار

سرنکوٹ //سرنکوٹ کے درابہ علاقے میںزیر تعمیر37میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والا پرنئی ہائیڈل پاور پروجیکٹ دہائیوں بعد بھی نامکمل ہے اورسرحدی ضلع پونچھ کو بجلی کے شعبے میں خود کفیل بننے میں نہیں معلوم ابھی مزید کتنا عرصہ لگ جائے گا۔اس پروجیکٹ کو 1992میں منظوری دی گئی تھی تاہم پہلے ملی ٹینسی کی وجہ سے اس کاکام وقت پر شروع نہیں ہوسکا اور پھر جب کام شروع ہواتواس میں کبھی زمین کی حصولی اور کبھی معاوضے کی ادائیگی کے معاملات آڑے آئے اور نتیجہ کے طور پر مقرر کی گئی ڈیڈ لائن 2018میںپوری ہوگئی اور اب نئی ڈیڈ لائن چار سال بعد مقرر کی گئی ہے۔

موجودہ صورتحال 

پرنئی پروجیکٹ کے منیجر پردیپ کمارنے بتایاکہ اس وقت تک ٹنل کا 4کلو میٹر کاکام ہوگیاہے جبکہ 5کلو میٹر کاکام بقایاہے جو ڈھائی کلو میٹر بھاٹہ دھوڑیاں مینڈھر سے جبکہ اتنا ہی بفلیاز کی طرف سے کیاجاناہے لیکن پریشانی یہ ہے کہ جیالوجیکل صورتحال موافق نہیں ہے۔ پردیپ کے مطابق باہر کاکام مستاندرہ کے مقام پر مقامی لوگوں کی مداخلت سے التوا میں پڑاہے کیونکہ زمین نہیں ملی اور طاقت کا استعمال کرکے کچھ کام کرناپڑامگر پورے طریقہ سے زمین فراہم نہیں ہوئی ۔انہوں نے بتایاکہ مستاندرہ کے علاوہ پائور ہائوس میں بھی زمین درکار تھی تاہم اس مقام پر یہ مسئلہ حل ہوگیاہے ۔پردیپ کے مطابق اس وقت سب سے بڑ امسئلہ زمین کی دستیابی کا ہے جس وجہ سے کام سست روی کاشکار ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹنل کے اندر انہیں حفاظتی سامان بھیج کر کام کرناپڑتاہے تاکہ کوئی پریشانی نہ آئے ۔ان کاکہناہے کہ ٹنل کااندرونی کام تب مکمل ہوسکتاہے جب جیالوجیکل صورتحال بہتر ہوجائے گی جو اس وقت ٹھیک نہیں۔ پروجیکٹ کے تحت9.237کلو میٹر ٹنل تعمیر ہورہاہے جس کی چوڑائی 3.20میٹر ہے ۔

مقامی لوگ نظرانداز

 
اس پروجیکٹ کے حوالے سے مقامی لوگوں کو نظرانداز کرنے کی شکایات اکثر سامنے آتی رہتی ہیں اور متعدد مرتبہ احتجاج اور دھرنے بھی دیئے گئے تاہم کمپنی حکام نے کوئی توجہ نہیں دی ۔کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے لیبر یونین صدر مزمل ملک نے بتایاکہ کمپنی کے ساتھ پی ڈی سی معاہدہ ہواتھاجس کے تحت 70فیصد مقامی جبکہ 30فیصد بیرونی افراد کو تعینات کرناتھالیکن اس پر عمل نہیں کیاگیا اور کچھ افراد کو جموں اور دیگر خطوں سے بھرتی کیا گیاجنہیں بھی کمپنی مقامی تصور کررہی ہے جو ضلع پونچھ کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ ان کی حفاظت کیلئے بھی کوئی اقدام نہیں کیاگیا اورمحفوظ جوتے تک نہیں دیئے جارہے جبکہ ایک ایمبولینس ہے اور وہ بھی خراب پڑی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ اگرکوئی شخص بفلیاز ٹنل میں زخمی ہوتاہے تو وہ وہیں مر جائے گالہٰذابھاٹہ دھوڑیاں، بفلیاز اور درابہ میں تین ایمبولینس گاڑیاں دستیاب رکھی جائیں اورساتھ ہی ڈاکٹرو طبی خدما ت بھی تینوں جگہ میسر ہوں۔لیبر یونین کے مطابق ٹنل کی حالت بہت خراب ہے اور مزدوروں کو ان کے حقوق نہیں دیئے جارہے اور نہ ہی اس سال انکریمنٹ دی گئی ۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ کچھ افراد پروجیکٹ کو تباہ کررہے ہیں جس کے خلاف انہوں نے احتجاج بھی کئے لیکن کسی نے کوئی توجہ نہیں دی اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیاجارہاہے ۔

تاخیر کیوں ہوئی ؟

پرنئی پروجیکٹ کے ایگزیکٹو انجینئر مشتاق احمد چوہدری 1992میں منظور ہونے والایہ پروجیکٹ کو پہلے ملی ٹینسی کے باعث تاخیر کاشکار بناتاہم2014میں کام شروع ہوااوراسے مکمل کرنے کیلئے 18جنوری 2018ڈیڈ لائن رکھی گئی لیکن جیالوجیکل مشکلات اور زمینی معاملات کی وجہ سے کام میں مزیدتاخیر ہوئی ۔انہوں نے مزید بتایاکہ جنوری 2022ڈیڈ لائن ہے اور تب تک کام مکمل ہوجائے گا۔چوہدری کے مطابق پروجیکٹ میں51فیصد مقامی اور 49فیصد غیر مقامی افراد لگائے گئے ہیں تاہم مقامی سطح پر تکنیکی افرادی قوت نہیں ملتی جس وجہ سے انہیں مجبوراًباہر سے لوگ لانے پڑتے ہیں ۔

ضلع کے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟

پرنئی پروجیکٹ کی تعمیر ہونے پر بجلی پیدا ہونے کے ساتھ ضلع پونچھ اور خاص کر خشک سالی سے متاثرہ تحصیل مینڈھر کے عوام کو دیگر سہولیات بھی فراہم ہوں گی ۔مینڈھر کے کلر موہڑہ میں پاور پروجیکٹ بنے گا اور وہیں سے پانی کی نہریں بھی بنیں گی جنہیں کثیر المقاصد کیلئے استعمال کیاجائے گا۔پروجیکٹ کے تحت ایک نہر بنلوئی کی طرف جائے گی جبکہ دوسری دائیں سمت میں چلی جائے گی ۔تاہم سرنکوٹ کو پانی کے لحاظ سے نقصان برداشت کرناپڑے گااور تحصیل کو 2فیصد پانی دیاجائے گا۔اس کے علاوہ 64کروڑ روپے مالیت کاپروجیکٹ ایک آبپاشی نہرکیلئے بھی رکھاگیاہے جس کیلئے حکومت کی طرف سے بھی مدد ملے گی۔پروجیکٹ سے حاصل ہونے والا پانی جہاں مینڈھر میں پینے کی خاطر استعمال ہوگا وہیں اس سے زرعی سرگرمیوں کو بھی بڑھاوادیاجاسکے گااور اس سے دیگر ذرائع حاصل ہوںگے۔