پرنسپل سیکرٹری آبپاشی و فلڈ کنٹرول نے کشمیر میں محکمہ کے جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا

سری نگر// آبپاشی اور فلڈ کنٹرول (آئی اینڈ ایف سی) اور کان کنی کے پرنسپل سکریٹری اشوک کمار پرمار نے آج یہاں سول سیکرٹریٹ میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران صوبہ کشمیر میں محکمہ آئی اینڈ ایف سی کے کئی جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔دورانِ میٹنگ پرنسپل سیکرٹری نے بات کرتے ہوئے تام جاری پروجیکٹوں پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے اَفسران پر زور دیا دیا اور اُنہوں نے اَفسران سے تمام مکمل شدہ کاموں کے یوٹیلائزیشن سر  ٹیفکیٹ ( یوسیز) کو بروقت جمع کرنے کے لئے کہا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی  کہ وہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے دیگر محکموں کے ساتھ مل کر ضروری اِقدامات کریں۔پرنسپل سیکرٹری نے اَفسران پر زور دیا کہ وہ تمام تعمیراتی مقامات پر کام کے معیار کو برقرار رکھیں اور کاموں کی ٹینڈرنگ کرتے وقت سی وِی سی اور جی ایف آر کے تمام رہنما خطوط پر عمل کیا جائے۔پرنسپل سیکرٹری نے سیلابی انتظام کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے وقت بچنے کے لئے محکمہ کو چاہیے کہ وہ کشمیر صوبہ میں سیلابی مناسب انتظام کے لئے طویل مدتی اور قلیل مدتی منصوبہ تیار کرے۔ اُ نہوں نے افسران پر زور دیا کہ دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ اس کی معاون ندیوں کے پار ڈریجنگ کا کام تیز کیا جائے اور ان تمام مقامات کی پہلے سے نشاندہی کی جائے جن پر سیلاب کے دوران ٹوٹ پھوٹ کے زیادہ امکانات ہوں۔پرنسپل سیکرٹری نے متعلقین کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ تمام حساس مقامات پرکناروں کو اونچا کرنے سے دریا کے ساتھ ساتھ فلڈ سپل چینل کے لے جانے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے اہم مقامات پر ڈریجنگ کا کام انجام دیں۔اُنہوں نے اَفسران سے مزیدکہا کہ وہ کناروں کے ارد گرد مٹی کے کٹاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک موثر طریقہ کار تیار کرنے کے علاوہ معاون ندیوں کے انتظام کے لئے ایک طویل مدتی منصوبہ تیار کریں تاکہ سیلابی اثرات کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے اَفسران سے کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کناروں کے ساتھ کان کنی کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات شروع کریں ۔میٹنگ کے دوران چیف انجینئر نے پرنسپل سیکرٹری کو تمام جاری پروجیکٹوں پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیل سے جانکاری دی ۔ انہوں نے میٹنگ کو یہ بھی بتایا کہ محکمہ کی جانب سے خوشحال سر اور گل سر جھیلوں کو بحال کیا گیا ہے جو کہ قدرتی آبی ذخائر ہیں جو انسانی مداخلت اور بڑے پیمانے پر تجاوزات کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔چیف انجینئر نے پرنسپل سیکرٹری کو یہ بھی جانکاری دی کہ محکمہ کشمیر میں متعدد دیگر ترک شدہ جھیلوں اور آبی ذخائر کو بحال کر رہا ہے۔