پردھان منتری اواس یوجنا پوری طرح نافذہی نہ ہو سکی

منڈی// مرکزی حکومت کی جانب سے غریب اور بی پی ایل زمرے میں آنے والے لوگوں کیلئے محکمہ دیہی ترقی کے تحت پی ایم اے وائی سکیم کو لاگو کیا گیا تھا تاکہ غر یب مستحقین کو رہائشی گھر دئیے جاسکیں لیکن بدقسمتی سے سرحدی ضلع پونچھ کے مینڈھر سب ڈویژن میں اس وقت بھی ہزاروں کی تعداد میں مستحقین ایسے ہیں جن کو اس سکیم کے زمرے سے ہی باہر رکھا گیا ہے ۔متعدد علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں غریب لوگ آج بھی سرکار کی اس سکیم سے محروم ہیں اور وہ سرکار کی ان سکیموں کے باوجود بھی ناقابل استعمال گھروں میں اپنی اور اپنے اہل خانہ کیساتھ زندگی گزار نے پر مجبور ہیں ۔مستحقین نے محکمہ کے ملازمین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ فلاحی سکیموں کی عمل آوری کے دوران ملازمین و آفیسران مبینہ طورپر سیاسی اثر ورسوخ کر ذہن میں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی سکیم زمینی سطح پر مکمل کامیاب نہیں رہتی ۔مینڈھر سب ڈویژن کے دیہات اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے غریب لوگوں کو اس سکیم کے تحت فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا ہے جبکہ عوام نے محکمہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اور پنچایتی نمائندگان کی ملی بھگت سے ان لوگوں کو اس سکیم سے محروم رکھا گیا ہے ۔غریب لوگوں نے بتایا کہ وہ س زمرے میں آنے کے باوجود ملازمین و پنچایتی اراکین کی پسند اور نا پسند کی وجہ سے امتیازی سلوک کا شکار ہو گئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی سرکار کی جانب سے اس سکیم کے تحت محکمہ دیہی ترقی کو ایسے لوگوں کو گھر تعمیر کر کے دینے تھے جو خود اس قابل نہیں ہیں کہ وہ اپنا گھر تعمیر کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنچایتی نمائندگان اور محکمہ کی ملی بھگت سے غریبوں کے اس پیسے کو ایسے لوگوں کو دیا جا رہا ہے جو اس سکیم کے زمرے میں نہیں آتے ۔ان کا کہنا تھا کہ آج بھی مینڈھر کے دور دراز علاقوں میں بی پی ایل زمرے کے تحت آنے والے لوگوں کو اس سکیم کا فائدہ نہیں مل سکا ۔انہوں نے محکمہ اور پنچایتی اراکین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ملی بھگت سے ایسے لوگوں کو اس سکیم کا فائدہ دیا گیا جو اس سکیم کے اہل نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ غریب آج بھی اپنی اسی چھونپڑیوںمیں اپنے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ان کہا کہنا تھا کہ غریب لوگوں کو محکمہ کی جانب سے فقط کاغذات تیار کروانے اور دفتروں کے چکر کاٹنے پر رکھا گیا ہے ۔مقامی معززین نے ضلع انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پردھان منتری اواس یوجنا کی عمل آوری میں شفافیت لائی جائے تاکہ مستحقین کو اس کا فائدہ پہنچ سکے ۔