پرانے کام نہ ہونے پر گول کے پنچایتی نمائندگان ناخوش | پروگراموں میں کم تعداد میں لوگوں کی شرکت ،مسائل زیر بحث لائے گئے

گول//’بیک ٹو ولیج‘کے تیسرے مرحلے کے پہلے روز جہاں پنچایتی نمائندوں میں جوش و جذبہت دیکھنے کو نہیں ملا وہیں عام لوگوں کی آمد نہ کے برابر رہی ۔ پچھلے دو مرحلوں میں جو بھی کام رکھے گئے تھے اُن میں نوے فیصد یااس سے زائد کام نہیں ہوئے جس وجہ جہاں عام لوگوں کی آمد کم دکھائی دی ۔وہیں پنچایتی نمائندگان بھی ناراض ہی دکھائی دیئے ۔سب ڈویژن گول کے تین بلاکوں ، گول ، سنگلدان اور گنڈم داڑم کے 26پنچایتوںمیں آج بیک ٹو ولیج تیسرے مرحلے کا انعقاد کیا گیا۔  گول کی پنچایت گول اے ، گول بی میں بھی بیک ٹو ولیج پروگرام کا اہتمام کیا گیا جہاں ملازمین نے تو حصہ لیا لیکن لوگوں کی آمد کم دکھائی دی ۔ وہیں اس دوران پچھلے دو مرحلوں میں رکھے گئے کاموں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ گول بلاک کے 9پنچایتوں ، سنگلدان کے 13اور گنڈی داڑم کے 4پنچایتوں میں مختلف جگہوں پر بیک ٹو ولیج کا اہتمام کیا گیا ۔ اس دوران لوگوں کے مسائل کے علاوہ دوسرے تعمیراتی کاموں کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ وہیں سنگلدان بلاک کے فمروٹ پنچایت میں ایک منفرد انداز میں سرپنچ نے اس پروگرام کے انعقاد پر مسائل رکھے جہاں بجلی ، سڑک و دوسرے مسائل کوچھیڑا نہیں بلکہ صرف ایک پانی کا مدعا رکھا گیا ۔ محمد امین بٹ سرپنچ حلقہ فمروٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پچھلے دو مرحلوں میں کافی مایوس کن کار کردگی رہی لیکن آج ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لوگوں کے مسائل حل ہوں گے جس وجہ سے انہوں نے بہت سارے مسائل نہیں صرف پانی کا مسئلہ انتظامیہ کے سامنے رکھا کیونکہ علاقہ میں سالہا سال سے پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جا رہی ہے ۔ اس طرح سے پورے سب ڈویژن میں پانی کی قلت ہے جہاں مختلف جگہوں پر منعقدہ پروگراموں میں پانی ،سڑک اور بجلی جیسے مسائل سر فہرست رہے ۔ وہیں عام لوگوں نے سرکار کی جانب سے ’بیک ٹو ولیج‘ پروگرام کو ایک فلاپ شو قرار دیتے ہوئے کہاکہ پہلے دو مرحلوں میں ایک پیسہ کہیں دکھائی نہیں دیا اب کیا خاک ہو گا ۔ مقامی لوگوں نے اس پروگرام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہاکہ عام لوگوں کو نہ تو پہلے کوئی فائدہ ہوا ہے اور نہ ہی آج کے اس پروگرام سے کوئی فائدہ ہو گا ۔