پرانا کھیل نئے کھلاڑی

 آمریت بظاہر مضبوط نظر آتی ہے لیکن ہوتی کمزور ہے، جب کہ مسائل کا گڑھ نظر آنے والی جمہوریت دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ چین نے مستقل مزاجی سے کامیابیوں کا سفر طے کیا ہے، لیکن وقت کبھی بھی بدل سکتا ہے۔ایک وقت تھا جب چین پر Mao Zedong کی حکومت تھی،جس کا شمار تاریخ کے ظالم ترین اور تباہ کن حکمرانوں میں ہوتا تھا اور اس وقت لوگ کہا کرتے تھے کے چین کبھی تیزی سے ترقی نہیں کر سکتا، لیکن پھر ہوا اس کے بالکل برعکس۔اور اب بھی موجودہ صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔ژی جن پنگ نے جس طرح اختیارات کو مرکزی سطح پر مجتمع کیا اس کی بڑی وجہ چین میں پائے جانے والے مسائل بھی تھے۔ ایک آمرانہ حکومت کے لیے معاملات کو کنٹرول کرنے کا سب سے بہتر حل یہی تھا کہ اختیارات کو ایک سطح پر مجتمع کیا جائے۔ اس طرح مختصر مدت کے لیے بہت سے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں،لیکن یہ مسائل کا حقیقی حل نہیں ہے۔فی الحال تو چین کو ایک مضبوط معیشت کی مدد حاصل ہے اور اس کے اثرورسوخ کے دائرہ کار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔مشرقی چین سے لے کر چین کے جنوبی سمندروں تک،بحر ہند سے وسطی ایشیا تک اور افریقا سے لے کر لاطینی امریکا تک چین کے اثرورسوخ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دولت کی فراوانی اور مستقل مزاجی مل کر چین کی اندرونی اور بیرونی طاقت کو بڑھا رہی ہیں، جس سے چین اپنے حریفوں پر سبقت حاصل کر رہا ہے۔اس موقع پر آسٹریلیا کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے جو کہ لبرل اور مضبوط جمہوریت کا حامل ملک تھا، اس کے علاوہ وہاں سماجی ہم آہنگی کی فضا بھی موجودہے اور پھر یہ امریکا کے اتحادی ممالک میں بھی شمار ہو تا تھا۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ چین کے اثرورسوخ کے دائرے میں آگیا۔ یہاں گزشتہ ایک نسل سے چین کے اثرورسوخ میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کی بڑی وجہ معاشی استحکام کے لیے چین پر بڑھتا ہوا انحصار ہے، اس کے ساتھ ساتھ چین نے آسٹریلیا میں ایک طویل مدتی مہم چلائی جس کے تحت آسٹریلیا سیاسی طور پر چین کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا لیکن اس نے چین کے مفادات کی کہیں مخالفت بھی نہیں کی۔ تقریباً یہی حکمت عملی چین نے ایشیا اور یورپ میں اپنا رکھی ہے، تاکہ ایک خطے ’’گرینڈیوریشیا‘‘ کی بنیاد رکھی جا سکے اور اس کا مرکز بیجنگ ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ یورپ کو بھی اٹلانٹک سے دور کر دیا جائے۔فی الحال تو امریکا کی عالمی معاملات میں عدم توجہی چین کو مضبوط کر رہی ہے،لیکن امریکا اب بھی دنیا کی طاقتور ترین قوم ہے۔ اس کے علاوہ ایک طرف تو امریکا نے چین کو کھلی چھوٹ دی، وہیں اس نے برازیل، بھارت، جاپان اور یورپ کو بھی ترقی کرنے میں بھرپور مدد کی۔ اس لیے جب بھی کبھی دو عالمی طاقتوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گی تو یہ طاقتیں امریکا کی مدد کو پہنچیں گی۔اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ آیا چین کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ امریکا کی بالادستی اور اس کے عالمی کردار کو متاثر کرتے ہوئے آگے بڑھے گا؟ اور اس کا جواب بالکل واضح ہے، چین کے اثرورسوخ میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اس کے ساتھ چین کی بالادستی کا احیا اس بات کا حق دیتا ہے کہ وہ عالمی طاقت بنے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا چین بقیہ ممالک کو اپنے زیر نگرانی کرتا چلا جائے گا،کیوں کہ وہ ایسا کرسکتا ہے۔یا پھر امریکا عالمی سپر پاور کا کردار ادا کرتا رہے گا،کیونکہ یہ اس کے لیے ضروری ہے۔
 نوٹ:
Stephen Kotkin پرسٹن یونیورسٹی میں تاریخ اور بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ Stanford’s Hoover Institution میں سینئر فیلو کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
