پرائیویٹ سکولوں میں فیس کا معاملہ

نئی دہلی//پرائیویٹ سکولوں میں فیس کا تعین کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی اور جموں کشمیر انتظامیہ کے نام عدالت عظمیٰ کی جانب سے نوٹس جاری کی گئی ہے۔ جس میں انہیں عدالت عالیہ میں اپنا موقف رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ نیشنل انڈپنڈنٹس سکول الائنس  NISAکی جانب سے عدالت عظمیٰ میں دائر کردہ ایک رٹ پٹیشن کی شنوائی کے دوران عدالت عظمیٰ کی جانب سے جموں کشمیر سرکار اور فیس کا تعین کرنے والی کمیٹی کے نام نوٹس جاری کی ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ایل ناگیسوارا رائو اور جسٹس انیدردھا پر مشتمل بینچ نے رواں برس 19جنوری کو جموں کشمیر میںچلائے جارہے 442پرائیوٹ سکولوں کے نام نوٹس کے جواب میں دائر کی گئی رٹ پٹیشن کی شنوائی کی۔ رٹ پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمیٹی کو سکولوں کیلئے فیس متعین کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ فی ریگولیٹری کمیٹی نے پرائیویٹ سکولوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ گزشتہ دو برسوں کے اکاونٹ کا ریکارڈ دائر کریں تاکہ سکولوں کیلئے فیس کا تعین کیا جاسکے۔ اس دوران کشمیر میں چلائے رہے پرائیویٹ سکولوں نے کمیٹی کی ہدایت پر عمل نہیں کیا ۔ ایڈوکیٹ کپل سبھل جو NISAکی نمائندگی کررہے ہیں نے عدالت کو بتایا کہ فی فزیشن کمیٹی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ سکولوں کے اکاونٹ کی جانچ کریں جو سرکاری معاونت سے نہیں چلائے جارہے ہیں۔اس ضمن میں عدالت عظمیٰ نے جموں کشمیر سرکار اور فی فگزیشن کمیٹی کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا موقف واضح کریں ۔