پرائیویٹ سکولوںکے داخلہ فیس پر پابندی عائد:جسٹس سنیل ہالی مرتکب سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ ہوگی، بغیر رسید رقوم لینے کے کیس سی بی آئی کو دیں گے

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر // چیئر پرسن فی فکزیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی جسٹس سنیل حالی نے کہا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے داخلہ فیس کاتقاضاکرنے اور وصول کرنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اور خلاف ورزی کے مرتکب سکولوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میںلائی جائے گی جس میں سکول کی اَفلیشن اور ریکاگ نیشن منسوخ کرنے کے اَقدامات شامل ہوں گے۔جسٹس سنیل ہالی نے کہاہے کہ اُن کے دفتر کو مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں کہ جموں اور وادی کے چند پرائیویٹ سکول قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلباء اور اُن کے والدین سے داخلہ کے عوض موٹی رقمیں وصول کرتے ہیں۔

 

اُنہوں نے کہاکہ انہیں یہ بھی شکایت ملی ہے کہ ایڈمشن فیس کی رقم نقد وصول کی جاتی ہے اور والدین کے اصرار کے باوجود انہیں رسید نہیں دی جاتی ہے ۔ اُنہوں نے جموں وکشمیر سکول ایجوکیشن ایکٹ 2002کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم شدہ ایکٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ پرائیویٹ سکول ٹیوشن فیس ، سالانہ فیس ، ٹرانسپورٹ فیس کے سواکوئی فیس وصول نہیں کرسکتے ہیں جبکہ پِکنک ، ٹور اور سیر وتفریح وغیرہ کی فیس رضاکارانہ طور پر لی جاسکتی ہے اور ان سب کے لئے فی فکزیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی سے پیشگی منظوری لینا لازمی ہے۔ جسٹس حالی نے کہا ہے کہ متذکرہ بالافیس کے علاوہ کسی بھی نام پر کوئی بھی فیس وصول نہیں کی جاسکتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شکایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی کی جانب سے 20؍دسمبر کو ایک سرکیولر کے ذریعے تازہ ہدایات جاری کئے گئے ہیں جن میں پرائیویٹ سکول مالکان اور منتظمین پر واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سکول داخلہ فیس (ایڈمیشن فیس ) کاتقاضہ نہ کرے اور نہ ہی اس طرح کافیس وصول کرکے قانون کی خلاف ورزی کامرتکب ہوجائے ۔ اُنہو ںنے کہا ہے کہ اگر کسی بھی پرائیویٹ سکول کے خلاف داخلہ فیس وصول کرنے کی کوئی شکایت ثابت ہوجائے گی تو ایسی صورت میں یہ مان لیاجائے گااس سکول کے تمام طلباء سے ایڈمیشن فیس وصول کی گئی ہے اوراُس صورت میں سکول کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اُنہو ںنے یہ بھی بتایا کہ اگر سکول کے خلاف رسید اور دیگر شواہد اور ثبوت موجود نہ ہوں تو ایسی شکایات کو تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی کو بھیج دیاجائے گا۔ تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے منفی رِپورٹ موصول ہونے کی صورت میں سکول کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جس کے تحت سکول کی ریکوگ نیشن اور سکول کی اَفلیشن کو منسوخ کرنے کے لئے اَقدامات کئے جائیں گے ۔