پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے کون پوچھے؟ | یوم اساتذہ پر کئی نجی سکولوں کے اساتذہ تنخواہوں سے محروم

سرینگر //عالمی سطح پر 4ستمبر کوجہاں اساتذہ کا دن منایا گیا وہیں وادی میںکئی نجی اسکولوں میں کام کر رہے اساتذہ تنخواہ نہ ملنے کے سبب فاقہ کشی کا شکار ہورہے ہیں۔حالانکہ بچوں سے سکول فیس با ضابطہ طور پر لیا گیا ہے اور اس میں کوئی رعایت نہیں کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ایسا ہورہا ہے۔سنجیدہ فکر طبقہ کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال ایسی رہی تو بہت سے اسکول اچھے اساتذہ سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور پھر طلاب کیلئے اچھے اساتذہ کا متبادل ملنا بھی مشکل ہو جائے گا۔معلوم رہے کہ نجی سکولوں کے اساتذہ لاک ڈائون کی بندشوں کے بیچ بھی آن لائن کلاسوں کے ذریعے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں لیکن انہیں تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں ۔ لاک ڈائون کے پیش نظرمتعددنجی سکول ایسے ہیں جو اساتذہ کو تنخواہ نہیں سکے ہیں ۔کووڈ 19کے بڑھتے خطرات کو دیکھ کر لگ نہیں رہا ہے کہ اسکول ابھی کھل پائیں گے اور ایسی صورتحال میں اساتذہ کے چولہے کیسے جلے گے یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جموں وکشمیر میں پہلے ہی بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے اور مزید بیروزگاری بڑھنے کا احتمال ہے ۔ایک نجی سکول میں کام کرنے والی استانی ،نائلہ طارق نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے نجی سکول میں 4ہزار روپے پر نوکری حاصل کی اور گذشتہ چار برسوں سے وہ اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون  کے بعد وہ تنخواہ حاصل کرنے سے قاصر ہے۔پرویز احمد نامی ایک اُستاد نے کہا ’’ اس کو 6ماہ کے بجائے صرف 2ماہ کی تنخواہ ہی ملی ہے اور وہ مشکل حالات میں گزارا کررہے ہیں۔معلوم رہے کہ اس وقت وادی میں 2710 نجی سکول درج ہیں جن میں 52ہزار اساتذہ بچوں کو تعلیم دیتے ہیں جبکہ 14ہزار دیگرغیر تدریسی عملہ ،جس میں ڈرائیور ، کلرک ، چپراسی وغیرہ شامل ہیں، کام کر رہے ہیں۔