پرائمری ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ کا درجہ نہیں بڑھے گا | آئندہ ہفتے سے باری باری ڈاکٹر تعینات رہیں گے : ناظم صحت

پرویز احمد
سرینگر //7سال قبل پرائمری ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ سرینگر کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال کا درجہ دینے کے اعلان کے بعد 23کروڑ روپے کی لاگت سے جدید طرز پر نئی بلڈنگ تعمیر کی گئی لیکن اب اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ در اصل اُس وقت کی سرکار نے بغیر کسی منصوبہ بندی اور منظوری کے بغیر سب ضلع اسپتال کیلئے عمارت تعمیر کی، جو بنیادی طور پر کبھی سب ضلع اسپتال کیلئے منظور ہی نہیں ہوئی تھی۔حکام کا کہنا ہے کہ یہی وجہ سے کہ زر کثیر خرچ کرنے کے بعد بھی پرائمری ہیلتھ سینٹر کا درجہ نہیں بڑھایا گیا ۔ چھانہ پورہ اور چاڑورہ کے علاوہ ایک وسیع علاقوں کے لوگ پچھلے7 سال سے پرائمری ہیلتھ سینٹر کا درجہ بڑھانے کی مانگ کررہے ہیں لیکن محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ کا درجہ نہیں بڑھایا جاسکتا، کیونکہ اسکے لئے کوئی سرکاری پرپوزل کبھی بنا ہی نہیں ہے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سب ضلع اسپتال بنانے کیلئے پہلے کابینہ کی منظوری لینا لازمی ہوتا ہے لیکن سابق حکومت نے ایسا نہیں کیا بلکہ منظوری کے بغیر ہی رقوم واگزار کی گئیں اور بہت بڑی بلڈنگ تعمیر کی گئی جو جدید سہولیات سے آراستہ بھی کی گئی۔حکام نے بتایا کہ پرائمری ہیلتھ سنٹر یہاں بدستور کام کرتا رہیگا جب تک نہ سرکاری طور پر اس ضمن میں کوئی باضابطہ فائلینگ نہیں ہوتی۔حکام نے بتایا کہ مذکوری بلڈنگ کو استعمال میں لاتے ہوئے اب محکمہ صحت نے فیصلہ کیا ہے کہیہاں لوگوں کی سہولیات کیلئے آئندہ ہفتے سے 24گھنٹے ڈاکٹر تعینات رہیں گے۔ بہترین بنیادی ڈھانچہ، جدیدی طبی آلات، 500ایم پی ایل آکسیجن پلانٹ ، 2ماڈولر تھیٹروں اور 50بستروں سے لیس ہونے کے بائوجود بھی پرائمری ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ کی بلڈنگ دھول چاٹ رہی ہے۔

پرائمری ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ ،باغ مہتاب ، نوگام، نٹی پورہ، کرالہ پورہ، اور چھانہ پورہ اور دیگر علاقوں کے 2لاکھ سے زائد افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے قائم کیا گیا تھا لیکن یہ پرائمری ہیلتھ سینٹر لوگوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ چھانہ پورہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں صرف ایک ڈاکٹر تعینات ہے اور اسلئے ہیلتھ سینٹر مریضوں کیلئے صبح 10بجے سے لیکر صرف 4بجے تک کھلا رہتا ہے اور چار بجے کے بعد بیمار ہونے والوں لوگوں کو نجی کلنکوں کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے جہاں انہیں دو دو ہاتھ سے لوٹا جارہا ہے‘‘۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمدراتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ سنیچر کو لوگوں کا ایک وفد میرے پاس آیا تھا اور میں نے ان کو واضح طور پر بتایاکہ پرائمری ہیلتھ سینٹر دستیاویزات میں ابھی بھی پرائمری ہیلتھ سینٹر ہی ہے اور اس کا درجہ نہیں بڑھایا گیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ این پی ایچ ایس قوائد و ضوابط کے مطابق جتنا عملہ وہاں تعینات ہونا چاہئے ، ہم نے اس سے بھی زیادہ عملہ تعینات کررکھا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ پرائمری ہیلتھ سینٹر میں سپر سپیشلٹی خدمات نہیں ہوتیں لیکن ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ لوگوں کی سہولیات کیلئے وہاں آئندہ ہفتے سے تین دن باری باری ماہر ڈاکٹر موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا ’’ ایک دن ہڈیوں کے امراض ، ایک دن معدے اور ایک دن جلد کے سپیشلٹ ڈاکٹر دستیاب رکھیں جائیں گے‘‘۔ناطم صحت نے کہا’’ آئندہ ہفتے سے پرائمری ہیلتھ سینٹر میں لوگوں کی سہولیات کیلئے رات کو بھی ڈاکٹر ڈیوٹی پر تعینات رکھے جائیں گے‘‘۔