پرائمری ہیلتھ سینٹرہرے کرالہ پورہ کی صحت خراب ۔15برس سے طبی مرکزکی لیبارٹری بند،ایکس رے مشین زنگ آلودہ،عملہ ناکافی

اشرف چراغ

کپوارہ//میڈیکل بلاک کرالہ پورہ کے دائرہ اختیار کے تحت پرائمری ہیلتھ سینٹر ہرے میں طبی سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے25ہزار کی آ بادی کو دشواریو ں کا سامنا کرنا پڑتا ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ 70کی دہائی میں ہرے کرالہ پورہ میں ایک میڈیکل سب سینٹر قائم کیا گیا ۔ایک سماجی کارکن اور صحافی عرفان لون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب سینٹر ہرے کا درجہ بڑھا کر اس سے پرائمری ہیلتھ سینٹر بنایا گیا ۔انہو ں نے بتایا کہ اسپتال میں لیبارٹری قائم تھی اور چھوٹے بڑے ٹیسٹ بھی ہوتے تھے جبکہ ایکسرے مشین بھی نصب تھی اور مریضوں کو کسی بھی قسم کے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا ۔انہو ں نے یہ بھی کہا کہ 2008تک پرائمری ہیلتھ سینٹرہرے میں مریضوں کو ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایکسرے سہولیات بھی دستیاب تھی لیکن اس کے بعد اسپتال ان سہولیات سے محروم ہوگیا ۔مقامی لوگو ں نے بتایا کہ ڈیجٹل دور میں ہر علاقہ میں نئی نئی طبی سہولیات اور جدید مشینری اسپتالو ں میں دستیاب ہے لیکن ہرے اسپتال ان تمام چیزوں سے محروم ہیں کیونکہ گزشتہ 15سال کے دوران ہسپتال میں کوئی ٹیسٹ ہوا ،نہ ایکسرے جس کی وجہ سے مریضوں کو سخت دشواریو ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ اب لیبارٹری میں الو بول رہے ہیں جبکہ ایکسرے مشین بھی زنگ آلو دہ ہوچکی ہے ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہسپتال میں ڈینٹل چیئر اور اس کے ساتھ دوسری مشینری بھی ہے، لیکن عملہ نہیں ہے تو پھر اس قسم کی مشینری نصب کرنے کا کیا فائدہ ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں طبی اور نیم طبی عملہ کی بھی کمی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں فزیشن ڈاکٹر کی ضرورت ہے تاکہ لوگو ں کو ہر وقت طبی سہولیات دستیاب ہو ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ اسپتال علاقہ میں لمبے عرصہ سے قائم ہے لیکن اب اس بات کی ضرورت ہے کہ اسپتال کو 24گھنٹہ کھلا رکھا جائے کیونکہ 4بجے کے بعد اسپتال بند ہو تا ہے اور اس علاقہ کے لوگو ں کو معمولی علاج کے لئے کرالہ پورہ کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔لوگو ں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیاکہ وہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کی طرف اپنی توجہ مبذول کرے اور ہسپتال میں طبی سہولیات کا بھر پور خیال رکھے تاکہ 25ہزار کی آ بادی کو کسی بھی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔