پرائمری ہیلتھ سنٹر ڈھوک کی عمارت 12برسوں سے مکمل نہ ہوسکی

 تھنہ منڈی // سب ڈویژن تھنہ منڈی کے پہاڑی و پسماندہ علاقہ ڈھوک میں زیر تعمیر پرائمری ہیلتھ سنٹر گزشتہ 12برسوں سے مکمل نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں بالخصوص مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔مکینوں نے کہاکہ اگرچہ حکومت دیہی علاقوں میں طبی مراکز قائم کرکے لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے دعوے کررہی ہے لیکن تھنہ منڈی کے ڈھوک علاقہ میں پی ایچ سی کا تعمیر پروجیکٹ گزشتہ کئی برسوں سے مکمل ہی نہیں کیا جارہاہے جس کی وجہ سے عوام طبی سہولیات سے محروم ہیں ۔تھنہ منڈی کے ڈھوک گائوں میں پرائمری ہیلتھ سنٹر کی تعمیر کی منظوری 10-2009 میں دی گئی تھی لیکن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر آج تک اس عمارت کو رنگ و روغن اور کھڑکی دروازوں سے محروم رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے قصبہ تھنہ منڈی کے قریب آباد چھ دیہات کی کئی ہزار کی آبادی کو طبی سہولیات کے فقدان کا سامنا ہے۔علاقہ کے لوگوں نے متعلقہ محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کئی سالوں سے عمارت کا تعمیری کام مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ایچ سی کی تعمیر مکمل نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں و عام لوگوں کو طبی سہولیات کیلئے در بدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں ۔عوامی نمائندوں نے بتایا کہ ایک کروڑ 26 لاکھ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی اس عمارت کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر مکمل نہیں کیا گیا ۔متعلقہ سرپنچ مقصود اختر اور سرپنچ منشی خان کا کہنا ہے کہ ڈھوک علاقہ دور دراز پہاڑی پر واقع ہے جہاں پر لوگوں کو بنیادی سہولیات نہیں مل رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عرصہ دراز تک جدوجہد کرنے کے بعد ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر ڈھوک کی منظوری ملی تھی جو 12 سال بعد بھی حکام کی نا اہلی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکا۔ سرپنچ کھنیال کوٹ منشی خان اور سرپنچ مقصود اختر ڈھوک  کے علاوہ دیگر کئی مقررین نے کہا کہ اگرپی ایچ سی ڈھوک کی تعمیر کا کام مکمل کیاجاتا تو یہاں پر ڈاکٹر تعینات کرکے لوگوں کوطبی سہولیات فراہم کی جاسکتی تھیں لیکن انتظامیہ اورمحکمہ صحت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ مکینوں نے مکینوں نے ڈپٹی کمشنر راجوری راجیش کمار شاون اور گورنر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ڈھوک پرائمری ہیلتھ سنٹر کی عمارت کو جلدازجلد مکمل کیاجائے تاکہ ان کو علاقہ میں ہی طبی سہولیات میسر ہو سکیں۔