پرائمری سکول محلہ چباں سلواہ کی عمارت 21برسوں سے تشنہ تکمیل ٹھیکیدار فرار ،انتظامیہ نے عمارت مکمل کرنے کے بجائے سکول کلب کردیا

جاوید اقبال

مینڈھر //مینڈھر سب ڈویژن کے دورافتادہ علاقوں میں قائم سرکاری سکولوں کا حال بے حال ہو تا جارہا ہے جس کی وجہ سے کئی سرکاری سکولوں کو کلب کرنے کیساتھ ساتھ ملازمین بچوں کو کھلے عام تعلیم دینے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔سب ڈویژن کے دور دراز علاقہ سلواہ میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول محلہ چباں سلواہ کی عمارت گزشتہ 21برسوں سے مکمل ہی نہیں کی جاسکی جبکہ اب عمارت کا تعمیر شدہ حصہ بھی منہدم ہونے کی دہلیز تک پہنچ چکا ہے ۔دوسری جانب متعلقہ محکمہ کی جانب سے عمارت کو مکمل کرنے کے بجائے سکول کو ہی ایک دوسرے سرکاری سکول کیساتھ کلب کر دیا گیا ہے۔والدین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ جس سکول کیساتھ محلہ چباں سرکاری سکول کو کلب کیاگیا ہے وہ دور ہونے کی وجہ سے اکثر بچے سکول نہیں جا پا رہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ دوسرے سرکاری سکول میں جانے کیلئے بچوں کو نالے عبور کرنا پڑتے ہیں جو کہ برسات کے موسم میں انتہائی مشکل ہوجاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پرائمری سکول محلہ چباں میں اس وقت 30کے قریب طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ ان کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے 2ٹیچر بھی تعینات کئے گئے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ عمارت کی تعمیر کا عمل 2002میں شروع کیاگیا تھا لیکن ٹھیکیدار فنڈز ہڑپنے کے بعد سے ہی غائب ہے تاہم متعلقہ محکمہ کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔والدین نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سکول کی تعمیر کیلئے خرچ ہوئے فنڈز کی جانچ کر کے اختیار کی گئی لاپرواہی کیلئے کارروائی عمل میں لائی جائے ۔