پاہو پلوامہ کا معروف اخوانی کمانڈر ۔22سال بعدسنٹرل جیل سرینگر میں فوت

سید اعجاز

پلوامہ//90 کی دہائی میں جموں و کشمیر میں ملی ٹینٹوں کے خلاف کارروائیوں میں سب سے آگے رہنے والے حکومتی بندوق بردار کی جمعہ کو سنٹرل جیل سرینگر میں طویل قید کے دوران موت ہوگئی۔متوفی شخص کی شناخت مشتاق احمد ڈار ولد محمد اکرم ڈار کے طور پر ہوئی ہے، جو پاہوکاکہ پورہ پلوامہ کا رہنے والا ہے۔ وہ گزشتہ 22 سال سے قید میں تھا۔ اطلاعات کے مطابق سرکردہ حکومت حامی بندوق بردار مشتاق احمد ڈار عرف مشتاق گنڈ باغی ہتھیار ڈالنے اور ملی ٹینٹوں کے خلاف باقاعدہ کارروائیوں میں حصہ لینے کے بعد سرگرم عسکری تنظیموں کا مطلوب ہدف تھا اور کئی بار ان کو گولیوں کا نشانہ بنایا لیکن وہ ہر بار ایسے اہداف سے بچ گیا۔سال 1998 کے دوران مقتول نے عام شہریوں کو قتل کیا جس کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے اسے گرفتار کر کے مختلف دفعات کے تحت سنٹرل جیل سرینگر میں بند کر دیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جرم کے تقریباً 25 سال بعد مشتاق ڈار کی سینٹرل جیل سرینگر میں موت ہو گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ 2014 کے بعد عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں میں مقتول کے تین قریبی رشتہ دار مارے گئے۔