پاکستان کیساتھ سفارتی اور بیک ڈور چینل رابطے موجود

’گپکار اتحاد‘ کوئی ’گینگ‘ نہیں ، رہنماؤں سے انفرادی طور پر ملا : لیفٹیننٹ گورنر

جموں //لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے ہوں گے اور انتخابات ، اسمبلی حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی کرنے کے بعدکرائے جائیں گے۔ایک ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’حد بندی کمیشن مکمل شفاف انداز میں اپنی مشق کر رہا ہے، میں اس سے پہلے اترپردیش میں کمیشن کا ممبر بھی رہ چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ کمیشن کا کام کتنا شفاف ہوتا ہے‘‘۔ سنہا نے کہا ’’ کمیشن کوایک خطے کو دوسرے خطے پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے بنایا گیا ہے،اس طرح کے الزامات بے بنیاد ہیں ، میں ان کو مسترد کرتا ہوں‘‘۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ جموں خطے کو سیاسی تسلط دلانے کے لئے کمیشن قائم کیا گیا ہے، کہا کہ جب سیاسی جماعتیں حد بندی کمیشن کا کام دیکھیں گی تو انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ وہ اپنا کام مکمل شفاف انداز میں انجام دیتا ہے۔ سیاسی جماعتیں خود کہیں گی کہ کمیشن کا کام آزاد ہے۔ کمیشن کی تشکیل پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ کی گئی ہے اور کسی کو بھی اس کے کام پر شک نہیں کرنا چاہئے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’یہ الیکشن کمیشن کا کام ہے جس نے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا انعقاد اور اعلان کرنا ہے،لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ چنائوگزشتہ سال کی ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے انتخابات کی طرح آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے اور تشدد سے آزاد ہوں گے‘‘۔جموں وکشمیر کو ریاستی درجہ دینے کے بارے میں ، انہوں نے کہا کہ ملک کی اعلی قیادت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اسے ایک مناسب وقت پر دیا جائے گا۔اس سوال کے جواب میں کہ گپکار الائنس کے رہنماؤں کو پہلے "گپکار گینگ" کے نام سے پکارا جاتا تھا لیکن اب انہیں مرکزی حکومت نے مذاکرات کے لئے بلایا ہے ، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گپکار اتحاد ان کے لئے "گینگ" نہیں ہے۔سنہا نے کہا"مجھے نہیں لگتا کہ وہ" گینگ "ہیں، درحقیقت ، میں ان سے بات کرتا رہتا ہوں اور محبوبہ مفتی کے سوا زیادہ تر سیاسی رہنماؤں سے بھی انفرادی طور پر مل چکا ہوں، تاہم ، مجھے محبوبہ کی بیٹی کی طرف سے ایک ای میل موصول ہوا اور اس کا جواب دیا ‘‘۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا محبوبہ مفتی نے آل پارٹی اجلاس میں پاکستان کے ساتھ بات چیت کی وکالت کی ، انہوں نے کہا ’’ اجلاس میں کیا ہوا اس کا انکشاف نہیں کریں گے لیکن کسی کے ذریعہ کوئی قابل اعتراض تبصرہ نہیں کیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا’’پاکستان کیساتھ سفارتی اور بیک ڈور چینل بات چیت ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے ، جس کے نتیجے میں سرحدوں پر جنگ بندی کا تازہ معاہدہ ہوا ہے۔اسکے ساتھ ہی انہوں نے متنبہ کیا کہ کسی کو بھی ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جب تک کہ دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا عسکریت پسندی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔اس بارے میں کہ آیا آرٹیکل 370 کی بحالی ایک بند باب ہے ، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا "ہر کوئی سمجھتا ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے، آرٹیکل کے حق یا اسکے خلاف بولنا اچھا نہیں ہے اور جرم کے مترادف ہے۔سیاسی رہنماؤں اور دیگر افراد کی حالیہ ہلاکتوں پر ، سنہا نے اعتراف کیا کہ کچھ واقعات رونما ہوئے ہیں "لیکن اگر ہم پچھلے سالوں کا تقابلی تجزیہ کریں تو عسکریت پسندوں کی دراندازی کم ہونے کے ساتھ ہی صورتحال بہت بہتر ہے،عسکریت پسندوں کی صفوں میں نئی بھرتی عمل بھی کم ہوئی ہے۔ کچھ محفوظ افراد اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ محفوظ افراد کی حفاظت کیلئے اب ایک نظام تیار کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز صورتحال کی مکمل نگرانی کررہی ہے، عسکریت پسندوں پر ان کادبائو ہے، وہ بڑے تال میل میں کام کر رہے ہیں، سیکورٹی فورسز ڈرون خطرات کا موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ دفاع اور ریسرچ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) ڈرون حملوں کی روک تھام کے لئے ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں دستور ہند کی 73 ویں اور 74 ویں ترمیم پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوچکا ہے اور ، پہلی بار ، پنچایت راج کا سہ فریقی نظام قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا ، "منتخب دیہی اداروں کو فنڈز منتقل کردیئے گئے ہیں۔"