پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 8 وکٹوں سے شکست دے دی

جوہانسبرگ/ پاکستان نے جنوبی افریقا کو چوتھے ایک روزہ میچ میں 8 وکٹوں سے شکست دے کر 5 میچز کی سیریز 2-2 سے برابر کردی۔جوہانسبرگ میں بریسٹ کینسر کی آگاہی کے سلسلے میں گلابی وردی میں کھیلے گئے میچ میں میزبان ٹیم 41 اوورز میں 164 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی جب کہ پاکستان نے ہدف باآسانی 31.3 اوورز میں حاصل کیا۔ہدف کے تعاقب میں امام الحق اور فخر زمان نے اننگز کا پراعتماد انداز میں آغاز کیا اور پہلی وکٹ پر 70 رنز کی شراکت قائم کی تو فخر 44 رنز بنا کر عمران طاہر کا شکار بن گئے۔فخر زمان نے اپنی اننگز میں 7 چوکے لگائے، دوسری وکٹ پر امام الحق اور بابر اعظم نے جنوبی افریقی بولروں کی ایک نہ چلنے دی اور گراؤنڈ کے چاروں اطراف شاندار اسٹروکس کھیلے۔میچ جیتنے کے لیے صرف ایک رن درکار تھا کہ امام الحق بڑا اسٹروک کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوئے، انہوں نے 91 گیندوں پر ایک چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 71 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ بابر اعظم 41 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔اس سے قبل پاکستان ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے ٹاس جیت کر پہلے میزبان ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی تو جنوبی افریقی بلے بازوں نے مایوس کن انداز میں آغاز کیا لیکن کپتان فاف ڈوپلیسی اور ہاشم آملہ کی زبردست شراکت نے ٹیم کو سہارا دیا۔میزبان ٹیم کی بیٹنگ میں کپتان فاف ڈوپلیسی اور ہاشم آملہ کی 101 رنز کی شراکت ہی بولنگ لائن پر حاوی رہی، اس کے سوا جنوبی افریقی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور 6 بلے باز ڈبل فیگر میں بھی شامل نہ ہوسکے۔فاف ڈوپلیسی 57 اور ہاشم آملہ 59 رنز بنانے کے ساتھ نمایاں رہے، ریسی ڈوسن 18 اور فیلوک وایو 11 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، 156 کے مجموعی اسکور پر عثمان شنواری نے اپنے ایک ہی اوور میں تین بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔پاکستان کی جانب سے عثمان شنواری نے 4، شاہین شاہ آفریدی 2، محمد عامر، عماد وسیم اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔یاد رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے نسلی پرستانہ جملوں پر کارروائی کرتے ہوئے کپتان سرفراز احمد پر 4 میچز کی پابندی عائد کردی گئی ہے جس کے باعث شعیب ملک ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔سرفراز احمد کی جگہ ٹیم میں محمد رضوان کو شامل کیا گیا ہے جب کہ حسن علی کی جگہ عثمان خان شنواری گیارہ رکنی ٹیم کا حصہ ہیں۔سیریز میں میزبان جنوبی افریقا کو 1-2 کی برتری حاصل ہے اور سیریز میں رہنے کے لیے قومی ٹیم کو آج کا میچ لازمی جیتا ہوگا، میزبان ٹیم کی کامیابی کی صورت میں سیریز جنوبی افریقا کے نام ہوجائے گی، اس لیے قومی ٹیم کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔