پاکستان میں کٹاس راج مندر پر سپریم کورٹ کا سخت حکم

 اسلام آباد// پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان میں ہندو¶ں کے مقدس مقامات میں سے ایک کٹاس راج مندر میں رام، شیو اور ہنومان کی مورتیاں نہ ہونے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ انتظامیہ اس معاملہ میں کیوں غفلت برت رہا ہے .انگریزی اخبار' ڈان 'کے مطابق عدالت نے کہا کہ اس مندر میں پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر سے ہندو برادری کے لوگ مذہبی رسومات ادا کرنے آتے ہیں. اگر مندر میں مجسمے نہیں ہوں گے ، تو وہ پاکستان میں رہ رہے اقلیتی ہندو¶ں کے بارے میں کیا سوچیں گے ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ نے کٹاس راج مندر کی خراب حالت کے بارے میں کل از خود نوٹس لیتے ہوئے سماعت کی۔ میڈیا میں یہ خبریں آئی تھیں کہ اس علاقے میں سیمنٹ کی فیکٹریوں کی وجہ سے مندر کمپلیکس کے اندر کا تالاب خشک ہو رہا ہے ۔'ڈان' کے مطابق عدالت نے ان خبروں کے بعد ہی از خود نوٹس لیا. ہندو مذہب کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ رام، شیو اپنی پتنی کی موت پر بے تحاشا روئے تھے اور ان کے آنسو¶ں نے تالاب کی شکل لے لی. یہ تالاب دو کنال 15 مرلا میں پھیلا ہوا ہے جس کی گہرائی 20 فٹ ہے . یہ تالاب ابھی خشک پڑا ہوا ہے ۔سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ خشک تالاب کو بھروائے . سماعت کے دوران پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ مندر کے ارد گرد سیمنٹ کی چار فیکٹریا ہیں جبکہ وقف محکمہ کے وکیل نے کٹاس راج مندر کی خراب حالت کے لئے گزشتہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے . ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دورمیں وقف بورڈ میں کافی دھاندلیاں ہوئی تھیں.عدالت نے پوچھا کہ اس معاملے میں جو لوگ مشتبہ ہیں ان کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا. اس پر وقف بورڈ کے وکیل نے جواب دیا کہ مشتبہ لوگ پاکستان سے فرار ہیں۔