’پاکستان میں پی ایس ایل میچزکیلئے فیصلہ کریں گے‘

کراچی/پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہناہے کہ لیگ کے اگلے ایڈیشن میں چھٹی ٹیم کی شمولیت اور پاکستان میں میچوں کے انعقاد سمیت اہم فیصلوں کے لیے بورڈ آف گورنرز (بی اوجی) کا اجلاس ایک ماہ کے دوران طلب کیا جائے گا۔ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک خصوصی انٹرویو میں نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پی ایس ایل میں چھٹی ٹیم کے اضافے پر بحث کی ہے اور یہ ٹیم آزاد کشمیر، گلگت یا کوئی اور ہوسکتی ہے'۔پی ایس ایل چیئرمین کا کہنا تھا کہ 'بی او جی کی آخری ملاقات میں اس نکتے پر بحث ہوئی ہے لیکن اگلے سیزن کے حوالے سے مزید کئی اہم فیصلے لینے ہیں اور اس کو حتمی شکل دینے کے لیے بی او جی کے اراکین کا ایک خاص اجلاس طلب کیا جائے گا'۔ان کا کہنا تھا کہ 'میں اپنے ٹویٹ میں پہلے ہی آزاد کشمیر کو چھٹی ٹیم کے طور پر حمایت کا اعلان کرچکا ہوں لیکن چھٹی فرنچائز کے حتمی فیصلے کے لیے بی او جی کے اجلاس میں ہمیں اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ گزشتہ دونوں سیزن کی طرح چھٹی ٹیم بھی مہنگے داموں فروخت ہوگی'۔نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ چھٹی ٹیم کے اضافے کے بعد ٹورنامنٹ میں 10 مزید میچ بھی ہوں گے جس کے بعد مجموعی طور پر 34 میچ ہوں گے، 'اور اس سے ہماری لیگ کی قیمت بڑھے گی جو براڈکاسٹرز کے لیے ایک اچھی خبر ہوگی جنھوں نے پی ایس ایل کے حقوق تین سال کے لیے خریدے ہیں تاہم یہ فیصلہ خاص اجلاس میں ہی ہوگا'۔انھوں نے واضح کیا کہ چھٹی ٹیم کیاضافے پر فرنچائز مالکان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن میں لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں میچز ہوسکتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی کی صورت حال بہت بہتر ہوچکی ہے اور سیکیورٹی ایجنسیاں میچوں کے انتظام کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں۔لاہور میں پی ایس ایل 2017 کے فائنل کے حوالے سے انھوں نے انکشاف کیا کہ 'کوئی بھی ٹیم لاہور میں فائنل کے اس فیصلے سے خوش نہیں تھی کیونکہ وہ کسی نا خوش گوار واقعے کے پیش آنے کے حوالے سے خوفزدہ تھے لیکن ہم نے انھیں مائل کیا'۔پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں منافع کے ہدف کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوئی حتمی اعداد وشمار دینا قبل از وقت ہوگا لیکن پی ایس ایل کی انتظامیہ نے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے اسی طرح پہلے ایڈیشن میں 2.6 ارب ڈالر کا منافع کمایا تھا۔مستقبل میں اسپاٹ فکسنگ سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات پر انھوں نے کہا کہ 'بی او جی نے اگلی دفعہ کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے مزید سیکیورٹی اہلکاروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے مجھے اجازت دے دی ہے جبکہ فرنچائزوں کو بھی مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو کہا جائے گا۔چیئرمین پی ایس ایل نے اسپاٹ فکسنگ سے بچنے کے حوالے سے کہا کہ انھوں نے برطانوی کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں جو تمام میچوں پر قریب سے نظر رکھے گی اور کسی غیرمعمولی بات پر آگاہ کرے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'برطانوی کمپنی میچوں کے دوران کرپشن کے کسی واقعے کو رپورٹ کرنے میں ناکام رہی ہے'۔نجم سیٹھی نے کہا کہ 'گوکہ برطانوی کمپنی کی حتمی رپورٹ ابھی آئے گی تاہم انھوں نے چند میچوں پر رپورٹ بنائی ہے لیکن کسی غلط کام کی نشاندہی نہیں کی ہے'۔