پاکستان میں ایم بی بی ایس نشستوں کی کشمیر میں فروختگی | ظفر بٹ سمیت 9کیخلاف قانو نی چارہ جوئی کی سفارش

سرینگر //جموں و کشمیر پولیس نے پاکستان میں ایم بی بی ایس نشستوں کی ’’فروخت‘‘ سے متعلق ایک حریت لیڈراور جنوبی کشمیر کے ایک وکیل سمیت 9افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی منظوری کے لیے محکمہ داخلہ کو درخواست دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نشستوں سے حاصل کی گئی رقم ملی ٹینٹوں کے فنڈنگ کے استعمال کی جاتی تھی۔پولیس نے اتوار کو بتایا یہ مقدمہ پولیس کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے گزشتہ سال جولائی میں قابل اعتماد ذرائع سے یہ اطلاع ملنے کے بعد درج کیا تھا کہ کچھ حریت رہنماؤں سمیت کئی جعلساز افراد کچھ تعلیمی کنسلٹنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔جنہوں نے متعدد کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پاکستان میں مقیم ایم بی بی ایس کی نشستیں اور دوسرے پروفیشنل کورسز کی سیٹیں "فروخت"کی ہیں۔سی آئی کے نے اگست میں کم از کم 4 افراد کو گرفتار کیا تھا جنہوں نے دو ساتھیوں کا نام بھی لیا تھا جو اس وقت پاکستان اور اس کے زیر انتظام  کشمیر میںموجود ہیں۔سی آئی کے نے مکمل تحقیقات کے بعد کیس جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کو منتقل کیا اور نو افراد کے خلاف سخت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت قانونی چارہ جوئی کی منظوری مانگی ہے۔حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران مزید شواہد سامنے آئے ہیں جس سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ داخلوں سے جمع کی گئی رقم کچھ ملی ٹینٹ گروپوں کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسند گروپوں کو ملک دشمنی کو فروغ دینے کے لیے بھیجی گئی تھی۔انہوں نے بتایاکہ سالویشن فرنٹ کے محمد اکبر بٹ عرف ظفر بٹ ان 9  افرادمیں شامل ہیں جن کے خلاف منظوری کی درخواست کی گئی ہے۔ جن گواہوں کی جانچ کی گئی ان میں سے کچھ نے اشارہ کیا ہے کہ بہت سے خاندانوں نے حریت رہنماؤں سے اس "پروگرام" سے فائدہ اٹھانے کے لیے رابطہ کیا، جو کہ پاکستان کی بیرونی جاسوسی ایجنسی آئی ایس آئی کے دماغ کی تخلیق ہے، جس کا مقصد مارے گئے جنگجوئوں کے خاندان کو مفت ایم بی بی ایس اور انجینئرنگ کی فراہمی کے ذریعے معاوضہ دے کر جنگجوئیت کی ترغیب دینا تھا۔ عہدیداروں نے کہا کہ سیٹوں کی قیمت 10سے 12لاکھ روپے کے درمیان تھی اور "کچھ معاملات میں، قیمت سینئر حریت رہنماؤں کی 'سفارش پر خواہشمند طالب علم اور اس کے خاندان کو رعایتیں دی گئیں۔اس دورا ن سی آئی کے نے اگست میں بٹ کو تین دیگر کو پاکستان میں ایم بی بی ایس کی نشستیں "فروخت" کرنے اور جنگجوئوںکی حمایت اور فنڈنگ کے لیے رقم استعمال کرنے پر گرفتار کیا۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایم بی بی ایس اور دیگر پیشہ ورانہ ڈگریوں سے متعلق بہت سے معاملات میں نشستیں ترجیحی طور پر ان طالب علموں کو دی گئیں جو مارے گئے جنگجوئوں کے خاندان کے افراد یا رشتہ داروں کے قریب تھے۔حکام نے مزید بتایاایسے معاملات بھی تھے جب انفرادی حریت رہنماؤں کو مختص کوٹہ، ان پریشان والدین کو بیچ دیا گیا جو اپنے بچوں کو کسی نہ کسی طرح ایم بی بی ایس اور دیگر پیشہ ورانہ ڈگریاں حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔انہوں نے بتایا80 سے زیادہ کیسز کا مطالعہ کیا گیا جس میں 2014سے18 کے درمیان طلبا اور ان کے والدین کی جانچ کی گئی۔وادی کشمیر میں تقریباً ایک درجن مقامات پرتلاشی لی گئی۔حکام نے بتایا کہ ظفر اکبر بٹ کے بھائی الطاف احمد اور ایک اور گرفتار شخص کا بھائی منظور احمد شاہ سرحد پار سے رابطہ کاری کر رہے تھے اور داخلوں میں سہولت فراہم کر رہے تھے۔دونوں، جنہیں مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے، 1990 کی دہائی کے اوائل میں اسلحہ اور گولہ بارود کی تربیت کے لیے پاکستان گئے تھے جہاں دونوں آباد ہیں۔