پاکستان عالمی دہشت گردی کا سرچشمہ

 
بینالم// وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کا نام لئے بغیر ہمسایہ ملک کو دہشت گردی کا مخرج قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی بھی پرورش کرتا ہے جو اس بات میں یقین رکھتی ہے کہ سیاسی مفادات کے لئے دہشت گردی کا استعمال جائز ہے ۔برکس کی چوٹی کانفرنس کے دوسرے روزان ملکوں کے رہنماوں کی مخصوص میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے مودی نے رکن ملکوں پر زور دیا کہ وہ اس لعنت کے خلاف ایک آواز ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کو سزاملنی چاہئے نہ کہ انہیں اعزاز دینا چاہئے ۔مودی نے اپنی تقریر میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے دائرے کے بارے میں خبردار کیا جس سے مشرق وسطی، مغربی ایشیا ، یوروپ اور جنوبی ایشیا کو زبردست خطرہ درپیش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نہ صرف معصوم شہریوں کی جان جاتی ہے بلکہ معاشی ترقی کے لئے کی جانے والی کوششیں بھی بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خود ہمارے اپنے خطے میں دہشت گردی سے امن استحکام اور ترقی کو سنگین خطرہ لاحق ہے ا ور دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اس دہشت گردی کا گہوارہ ایک ایسا ملک ہے جو ہندوستان کا پڑوسی ہے اور پوری دنیا میں دہشت گردی کے جتنے چھوٹے بڑے مرکز ہیں ، ان سب کا تعلق اسی سے ہے ۔یہ ملک نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے بلکہ ایک ایسی ذہنیت کی پرورش کرتا ہے ببانگ دہل یہ اعلان کرتاہے کہ سیاسی مفادات کے لئے دہشت گردی کا استعمال جائز ہے ۔وزیراعظم نہ کہا کہ یہ ہم اس ذہنیت کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اس کے خلاف کھڑے ہوں اور مل جل کر کارروائی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برکس ملکوں کو دہشت گردی کی اس لعنت کے خلاف ایک آواز ہونا چاہئے ۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ برکس ممالک امن ، اصلاحات ، عقلیت اور بامقصدعمل کی آواز رہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ہماری اقتصادی خوشحالی کو جو سنگین ترین خطرہ درپیش ہے وہ دہشت گردی ہے ۔وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برکس ممالک کو جلد از جلد سی سی آئی ٹی منظور کرنا چاہئے اور دہشت گردی کے خلاف عملی تعاون تیزترکردینا چاہئے ۔