پاکباز کی قربانی قبول ہوجاتی ہے

دنیا کے ہر مذہب اور ہر قوم میں مذہبی تقریبات اور تہوار منائے جاتے ہیں، اس لئے کہ سال بھر کی مصروفیات اور روز مرہ کی مشغولیات سے دل برداشتہ ہوکر انسان یہ خواہش کرتا ہے کہ کچھ ایسے لمحات ملیں کہ وہ اپنی مصروفیات زندگی سے الگ ہوکر زندگی کا حقیقی لطُف حاصل کرسکے۔اس نفسیاتی ضرورت کا لحاظ کرتے ہوئے اسلام نے مسلمانوں کو ایسے ہی دو تہوار عطا کئے ہیں ،جنہیں مسلمان عید الفطر اور عیدِ قربان کے طور پر مناتے ہیں ۔عام طور دوسرے مذاہب کے لوگ ایسے مواقع پر بے لگام ہوکر اور اخلاق و کردار کے دائرے سے باہر نکل کر شراب ،جُوا اور دوسری اخلاق سوز حرکات کو بھی کوئی غلطی تصور نہیں کرتے بلکہ اس کو نیک کام یا کم از کم اُس دن کا انعام سمجھتے ہیں لیکن اسلام کی یہ خوبی ہے کہ خوشی کے ان موقعوں پر بھی انسان کو اپنی مرضی کے مطابق وہ سب کچھ کرنے کی اجازت نہیں ،جس پر عام دنوں میں پابندی عائد ہو۔اس لئے ان دونوں عیدوں پر دن کا آغاز دو رکعت نماز سے کیا جاتا ہے جس کا اس کے سوا کچھ مقصد نہیں کہ فرصت کے ان لمحات میں بھی انسان آزاد نہیں ہے اور نہ اُسے اپنے دائرہ عبدیت سے باہر نکلنے کی اجازت ہے بلکہ یہاں بھی اُسے اپنے خالق کی اطاعت اور اپنی بندگی کا اظہار کرنا اور اس کے سامنے سَر تسلیم ِخم رکھنا ہے۔عیدِ قربان کا یہ تہوار بھی جس میں سارے مسلمان اللہ کے حضور مختلف جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور اس طریقے سے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ،اسی جذبۂ عبدیت کا اظہار اور تسلیم و رضا کا اعلان و اعتراف ہے۔
قربانی کا مقصد صرف خون بہانا یا محض گوشت کھانا نہیں بلکہ ایک جانور کی قربانی دے کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی فنائیت کا اظہار اور قدم قدم پر حُکمِ الٰہی کے سامنے سر جھُکادینے کا اعلان ہے ،گویا ایک مسلمان زبان ِ حال سے اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اللہ کی رضا کے لئے اپنی نفسانی خواہشات ،غلط جذبات اور بے ہودہ اخلاق و کردار سے دستبرداری کا عہد کررہا ہے ،وہ اس موقع پر ہمدردی ،جذبۂ خیر سگالی اور انسانیت کی خدمت کے لئے اپنا سب کچھ اور اپنی سب سے قیمتی متاع بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرے گا ۔قربانی کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور عنایات کا عجز و بندگی کے ساتھ اعتراف کیا جائے،اُس کے حضور خلوصِ دل سے اظہار تشکر کیا جائے،اخوت و ہمدردی ،تدبُر و تنظیم ،محبت و مروت ،ہمت و حوصلہ اور حق و انصاف کو اپنایا جائے اور لطف و کرم اور تواضع کو زندگی کا محور قرار دیا جائے۔مذہب اسلام کی بنیاد سُنت ِ ابراہیمی پر رکھی گئی ہے۔یہ قربانی جو در حقیقت سیدنا ابراہیم ؑ کی اپنے بیٹے سیدنا اسماعیل ؑ کے حلقوم پر چھُری چلادینے اور اپنے بُڑھاپے کے سہارے کو راہِ خدا میں قربان کردینے کی یادگار ہے،ہمیں سکھاتی ہے کہ رضائے الٰہی کے مقابلے میں ہمیں دنیا کی کوئی چیز عزیز نہیں ،ہمارا سب کچھ ہمارے خالق کی امانت ہے اور اُسے رضائے الٰہی کے لئے استعمال کرنا ہے ۔حکمِ خداوندی پر لختِ جگر کی قربانی کے لئے راضی ہوجانا کوئی کھیل نہیں،لخت ِ جگر کا بہ رضا و رغبت گردن کٹا لینے پر تیا ہوجانا کوئی تماشا نہیں ،بلکہ یہ طریقہ تسلیم و رضا کی انتہا ہے،یہی وہ علمِ وعرفان ہے جس نے آتشِ نمراود کو گُل و گلزار کردیا تھا اور یہی وہ صدق ِ خلیل ہے جس سے سارے عالم میں توحید کا ڈنکا گونج اُٹھا تھا ۔
جانور ذبح کرکے اگر گوشت کھانا ہی قربانی کا مقصد ہوتا تو اُس کے لئے سال بھر انتظار کرکے اور تزک و اہتمام سے عید منانے کی کیا ضرورت تھی ،ایسی قربانی تو مسلمان ہر روز کرتا ہے ،ہر دن ہزاروں لاکھوں جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور گوشت کھایا جاتا ہے۔اسوۂ ابراہیمیؑ اور پیغامِ محمدی ؐ جس قربانی کا درس دیتے ہیں وہ محض ایک بے زبان جانور کی قربانی نہیں بلکہ یہ تو قربانی کی علامت ہے۔اصل مطالبہ تو پورے وجود کی قربانی ہے ،جس میں جان و مال ،قوت و جذبات ،خواہشات و مفادات اور تعلقات کی قربانی شامل ہے۔ایک مسلمان کو اس بات کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے کہ بار گاہِ خداوندی سے جس وقت اور جس چیز کی قربانی کا مطالبہ ہو، اُسے پورا کرنے میں کوئی پش و پیش نہ کرے۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل ؑ کو قربان گاہ میں لِٹاکر یہی سبق دیا ہے کہ بوڑھے باپ کے لئے جوان بیٹے سے پیاری اور قیمتی کوئی چیز نہیں مگر اللہ کو زندہ چاہئے تو یہ بھی حاضر ہے۔یہ سبق یاد دلانے کے لئے ہر سال قربانی کی رسم ہماری غلاموں کی اس بستی میں بھی ادا کی جاتی ہے۔
مگر افسوس ! یہ رسم ہم ایک رسم کے طور پر ہی ادا کرتے ہیں کوئی سبق ہمیں یاد نہیں رہتا ،کاش قربانی کرنے ولا اس رسم سے یہ سبق حاصل کرتا کہ صرف جانور ہی کا خون نہ بہے بلکہ خواہشات ِ نفس کا بھی خون ہوجائے لیکن ہماری سچی قربانی کی راہ میں ہمارے حقیر مفادات اہم رُکاوٹ ہیں۔یہ مفادات ہمیں کسی بڑی قربانی پر آمادہ ہی نہیں ہونے دیتے جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مفاد پرستی اور قربانی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔خود غرضی ،نفس پرستی ،حرص و طمع ،بغض و عداوت ،حسد و منافقت ،کم ظرفی ،بزدلی ،احساسِ کمتری ،کینہ پروری اور ایک دوسرے کی دِل آزاری اسی مفاد پرستی کے نتائج ہیں۔
اس بستی میں رہنے والے ہم مسلمان بھی عیدیں مناتے ہیں لیکن ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ ان مقدس تہواروں پر ہی ہم شراب نوشی بھی کرتے ہیں ،جُوا بھی کھیلتے ہیں اور ایسی اخلاق سوز حرکتوں کے مرتکب بھی ہوتے ہیں جو شائد غیر قوموں میں بھی نہ پائی جاتی ہوں۔خوشیوں کے ان دو مواقع پر اب یہاں آتش بازی کا وہ سماں بندھ جاتا ہے کہ باہر سے کوئی آیا ہوا انسان یہ سمجھ ہی نہیں پاتا ہے کہ یہاں عید منائی جاتی ہے یا دیوالی۔سچ تو یہ ہے کہ یہاں کے خوشحال گھرانوں میں مال و زَر کی فراوانی اسراف ،فضول خرچی اور نام و نمود کا باعث بن گئی ہے ،ایسے لوگ اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل سے زیادہ اپنی جھوٹی شان و شوکت کے اظہار پر توجہ دینے لگتے ہیں ۔یہاں قربانی کے گوشت کی تقسیم میں ایسا دکھاوا کیا جاتا ہے جو شائد دنیا کی کسی اور مسلم ریاست میں بھی دیکھنے کو نہ ملے،اگر خاندان میں ایک دو لڑکوں یا لڑکیوں کی بات ابھی پکی ہوئی ہو تو اُن رشتہ داروں کے لئے ایک سالم جانور بھی کم پڑتا ہے اور مانگنے والے سائل کے حصے میں جانور کے صرف اندرونی اعضاء ہی آتے ہیں ،جنہیں وہ اپنی توہیں اور قربانی کرنے والے کی ریا کاری سمجھ کر لینے سے ہی انکار کرتا ہے۔یہ بات قابل غور و فکر ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے اپنے جذبات و خواہشات کو نہ دبا سکے ،ذاتی مفادات کو قربان نہ کرسکے اور بُرے رسم و رواج کو ذبح نہ کرسکے ،وہ صرف ایک جانور ذبح کرکے اللہ کے نزدیک کیسے سرخ رُو ہوسکتا ہے۔جانور بے عقل اور بے شعور ہوتا ہے ،وہ صرف جسم و جان ،ہڈی ،خون اور گوشت و پوست کا مجموعہ ہوتا ہے ،اس لئے اخلاقی اصول اور مذہبی احکام کا مکلف نہیں ہوتا تو اللہ کا حُکم ہے کہ اچھے جانور کی قربانی کرو ،ایسا جانور جو تندرست و توانا ہو اور ہر طرح صحیح و سالم ہو ،مگر انسان تو عقل و ہوش کا حامل ہے ،دینی واخلاقی اصولوں کا پابند ہے،بھلے اور بُرے کی تمیز رکھتا ہے ۔جس رب نے نذر کے لئے بے عیب جانور کی قربانی کا مطالبہ کیا ہے اُس کی حکمت اور عدالت قربانی کرنے والے کو بھی اخلاقی عیوب سے پاک اور نفسانی امراض سے محفوظ دیکھنا چاہتی ہے۔اگر قربانی کا جانور بے عیب ہو اور قربانی کرنے والا عیب دار ،جانور تو اپنے مالک یعنی انسان کے لئے اپنی گردن کٹادے مگر قربانی کرنے والا اپنے مالک ِ حقیقی کے حُکم پر اپنی گردن نہ جھُکاسکے تو بار گاہِ الٰہی میں اُس کی قربانی کیونکر قبول ہوسکتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ صاف اعلان کرچکا ہے :’’اللہ تو صرف پاکبازوں کی قبول کرتا ہے ۔‘‘
جانور ذبح کرنے سے پہلے یہ دُعا پڑھنے کا حکم ہے :’’اِنّ َ صَلاتی وَنُسکِی وَ مَحیائی وَ مَمَاتی اللہ ُ رَبّ ُالعَالمِین لا شَریک لَہُ وَبِذا لِکَ اَمرتُ وَاَنَا وَلا َلمُسلمینَ‘‘
جانور ذبح کرتے وقت جب یہ دُعا پڑھی جائے تو قربانی کرنے والا اپنے آئینہ ٔ دِل میں جھانکے کہ جو اقرار اُس کی زبان پر ہے کیا وہی تصور اُس کے دل میں بھی ہے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ نماز ،روزہ تو بے شک اللہ کے لئے ہے مگر جینا اور مرنا شخصی مفاد کے لئے ہے،جاہ و منصب کے لئے ہے ،نام و نمود کے لئے ہے اور طاغوتی قوتوں کے بنائے جھوٹے معیارِ زندگی کے لئے ہے اور اگر ضمیر گواہی دے کہ بے شک ایسا ہی ہے تو جانور ذبح کرنے کے ساتھ اُن چُھپے ہوئے دیوتائوں کو بھی ذبح کرنا ہوگا کہ حقیقی قربانی کا یہی مقصد ہے۔
احمد نگر سرینگر
رابطہ ۔9697334305