پانی کے قدرتی خزانوں سے مالا مال سرنکوٹ کی عوام کے نصیب میں صرف پیاس | قصبہ و دیہات میں پانی کی ہاہار کار ملازمین لاتعلق ،12لاکھ گیلن ضرورت،3لاکھ80ہزار گیلن دستیاب:حکام

بختیار کاظمی

سرنکوٹ// سرنکوٹ قصبہ جہاں پانی کے قدرتی خزانوں سے مالامال ہے وہیں سرنکوٹ قصبہ کی عوام پانی کی ایک ایک بوند کے لیے ترس رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے محکمہ جل شکتی کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرنکوٹ قصبہ میں پچھلے کئی عرصہ سے پانی کی قلت ہے لیکن متعلقہ محکمہ ٹس سے مس نہیں ہورہاہے ۔انہوںنے کہا کہ بارہا محکمہ جل شکتی کے آفیسران اور ملازمین کو جانکاری دی گئی لیکن کسی نے بھی سنجیدگی سے عمل درآمد نہیں کیا جس کی وجہ سے عوام مشکلات سے دوچار ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ جل شکتی کے کئی ملازم سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے کی تنخواہ لیتے ہیں اور دیگر کئی ملازم ہزاروں میںتنخواہ لیتے ہیں لیکن جب بھی محکمہ کے کسی ملازم سے بات کرنے یا ملاقات کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ کل ملاقات ہوگی یا پرسوں۔انہوںنے کہا کہ اگر ملازم عوام کی بات سننے سے بھی کتراتے ہیں تو پھر سرکار انہیں کس بات کی تنخواہ دیتی ہے، سرکار کو ایسے نکمے آفیسران اور ملازمین کو نوکری سے نکال کر نئے ملازم بھرتی کرنی چاہئے۔انہوںنے کہا کہ محکمہ کی لاپروائی کی وجہ سے لوگوں کو مجبوراً نجی گاڑیوں کے ذریعے پینے کا صاف پانی خریدنا پڑ رہا ہے ،جن لوگوں کے پاس سرمایہ ہے وہ خرید کر بھی پانی کا استعمال کرتے ہیں لیکن غریب مزدور جو دیہاڑی لگا کر اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ،وہ بے بس ہیںاوران کے پاس پانی خریدنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ سرنکوٹ قصبہ کے ساتھ ساتھ کئی دیہات میں بھی پانی کی شدید قلت ہے ۔رابطہ کرنے پر ایگزیکٹیوانجینئرجل شکتی سرنکوٹ نے بتایا کہ موسم خشک رہنے کی وجہ سے پانی کے دو بور پوری طرح خشک ہو چکے ہیں۔ انہوں بتایا کہ شہر میں 12 لاکھ 4 ہزار گیلن پانی کی ضرورت ہے جس میں سے محض 3لاکھ 80ہزار گیلن پانی دستیاب ہوتا ہے، پھر بھی محکمہ کی کوشش ہے کہ عوام تک تھوڑی تھوڑی سپلائی پہنچائی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ سرنکوٹ قصبہ اور دیہات میں تقریباً سترفیصد لوگ مفت پانی کا استعمال کرتے ہیں جن کی وجہ سے وہ لوگ بھی پریشان ہیں جو سالانہ پانی کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔