پانی کی شدید قلت سے عوام پریشان | بنوت گائوں کو جل شکتی مشن کا کوئی فائدہ نہیں ملا

پونچھ//پونچھ کے سرحدی گائوں بنوت اور ڈھوکری میں عوام کو کئی برسوں سے ہر موسم میں پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس بار کی شدید سردی میں پانی کی شدید قلت نے عوام کا جینا محال کردیا ہے۔ پہاڑی گائوں کے دشوار ترین راستوں پر کمسن لڑکے لڑکیاں خواتین یہاں تک کہ ضعیف حضرات کو اپنے کندھوں پر پانی سے بھرے ڈبے اٹھائے دیکھا جاسکتا ہے۔ بنوت گائوں میں اس طرح کے مناظر روز کا معمول بن گئے ہیں۔بنوت گائوں کی پیسٹھ سالہ بزرک خاتون عطر بی نے بتایا کہ محکمہ پی ایچ ای کی جانب سے لگائی گئی پائپوں میں کئی  برسوںسے ان کے گھروں میں پانی نہیں آرہا ہے جس کے نتیجہ میں انہیں کافی مشکلات برداشت کرنی پڑرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنوت گائوں اور مضافات کے بے شمار علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی کے نتیجہ میں عوام کو خانگی ٹینکرس پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ علاقہ میں پانی کی قلت سے سب سے زیادہ متاثر بنوت ڈھوکری گائوں ہے جہاں کے لوگوں کو دور دراز مقامات سے پینے کا پانی لانا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ لوگ دو سے ڈھائی کلو میٹر دشوار ترین راستوں کا سفر کر کے چشموں اور ندی نالوں سے پانی لاکر استعمال کر رہے ہیں جس میں ان کا پورا دن لگ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ کے افسران سے  جب بھی شکایت کی گئی تو وہ یقین دہانی تو کرتے ہیں کہ ان کے گھروں میں پانی پہنچایا جائے گا لیکن کرتے کچھ نہیں ہیں۔رابطہ کرنے پر محکمہ پی ایچ ای کے ضلع افسر نے بتایا کہ علاقہ میں پانی کی قلت کو جلد ہی ختم کیا جائے گا۔