پانڈی چیری اسمبلی اسپیکر ڈاکٹر فاروق سے ملاقی

سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ نئی دلی کی مسلسل غیر سنجیدگی نے جموں وکشمیر کے حالات ورز بروز خرابی اور تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں اگر مرکزی حکومت نے اس بار اپنے رویے کو تبدیل نہیں کیا تو حالات مزید تباہی کی طرف جاسکتے ہیں ۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نوائے صبح کمپلیکس میں پانڈی چری اسمبلی کے اسپیکر وی ویتھلنگام کے ساتھ تبادلہ خیال کررہے تھے ۔اس موقعے پر وہاں این سی کے کارگذار صدر و سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور ریاستی نائب اسپیکر نذیر احمد گریزی بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فاروق نے مہمان پانڈیچری اسپیکر کو نیشنل کانفرنس کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ  نیشنل کانفرنس ہی وہ واحد سیاسی اور عوامی نمائندہ جماعت رہی ہے جن کی عظیم مالی اور جانی قربانی کی بدولت ریاست کے لوگوں کو آئینی اور جمہوری حقوق حاصل ہوئے اور 1947 ء میں مرحوم شیخ محمدعبداللہ کی قیادت میں یہاں عوامی حکومت وجود میں آئی اور شیخ محمد عبداللہ نے بحثیت وزیر اعظم ریاست جموں وکشمیر نے اس عوامی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی جبکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ صرف اورصرف تین شرائط پر الحاق کیا ۔ رسل رسائل ، کمیونکیشن ، کرنسی اور خارجہ پالیسی جبکہ اس کے ساتھ آنجہانی مہاراجہ نے ہی فوج منگوائی ۔انہوں نے کہاکہ 1953 میں شیخ محمد عبداللہ کو غیر قانونی طور طاقت کے بل   عوامی حکومت سے برخواست کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ریاست کے پُر امن حالات دن بہ دن بگڑ تے گئے اور آ ج حالات آپ کو خود معلوم ہیں ۔داکٹر فاروق نے کہاکہ ہم نے مرکز کو خاص کر صدر ہند ، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بار با راپیل کی اور ڈیلی گیشن کی صورت میں ملتے رہے کہ ریاست کے لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں انکو پورا کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر کو سیاسی بنیادوں حل کیا جائے اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی مستحکم اور استوار بن جائے تاکہ بر صغیر میں امن کی فضا لو ٹ آئے ۔ ساتھ ساتھ ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کے نمائندوں کو بھی امن بات چیت میں شرکت یقینی بنا ئی جائیں تاکہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کیلئے حل ہو نے سی ہی ریاست میں پائیہ دار امن قائم ہو سکیں۔ڈاکٹر فاروق نے اسپیکر موصوف کو وادی کے شہر آفاق ، 
صحت افزا مقامات کی سیر کرنے کا بھی مشورہ دیا