پانچ فیصد مسلم ریزرویشن کی بحالی کیلئے 10 اگست تک مہلت

  اورنگ آباد//مہاراشٹرا میں مسلمانوں کے لیے منظورشدہ پانچ فیصد ریزرویشن کی بحالی اور اس ضمن میں عملی اقدامات کے لیے ریاستی حکومت کو ایک ہفتہ کی مہلت دیتے ہوئے انتباہ دیا گیا کہ اگر 10 اگست تک مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو بعد کے حالات کے لیے حکومت ذمہ دار رہے گی۔آج یہاں مسلم ریزرویشن کے حصول کے لیے ' جن جاگرن سمیتی مہاراشٹرا ' کی جانب سے منعقدہ ایک اجلاس کے بعد جن جاگرن سمیتی مہاراشٹرا کے صدر محسن احمد نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انتباہ دیا، انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے ، اگر 10 اگست تک سابق حکومت کی جانب سے مسلمانوں کے لیے جو 5 فیصد ریزرویشن منظور کیا تھا اسے بحال نہیں کیا گیا تو مسلمان بھی مراٹھا سماج کے ساتھ مل کر مراٹھواڑا کے ہر ضلع اور تعلقوں میں پرزور احتجاجی تحریک شروع کریں گے ۔مسلم ریزرویشن کے حصول کے لیے عوامی بیداری اور احتجاجی تحریک کا لائحہ عمل طئے کرنے کے لیے منعقدہ اس اجلاس میں عمائدین شہر، دانشوروں ، سماجی خدمتگاروں اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اپنی آراء پیش کی۔ اس موقع پر سابق کارپوریٹر رشید ماموں، شیخ مشتاق احمد، شیخ مناف ، فضل اللہ خان، عابدہ بیگم، صدیقی تعیم سلطانہ، ابراھیم پٹیل، شاہ نواز خان، مرزا علیم بیگ، ایڈوکیٹ قیصر خان، میر ہدایت علی، شمشاد بیگم، سلمیٰ بانو، رمضانی خان، محسنہ بلقیس،اشفاق احمد ، مفتی محسن وغیرہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں مسلمانوں کو تعصب، محرومی اور ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ رنگناتھ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر گزشتہ حکومت نے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے لیے ، مراٹھا سماج کے لیے 16 فیصد اور مسلمانوں کو میں5 فیصد ریزرویشن کو منظوری دی تھی اور بعد ازاں اس کے لیے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا تھا ۔ ممبئی ہائی کورٹ نے بھی تعلیم کے لیے مسلم ریزروشن کو جاری رکھنے کے احکامات دئے تھے ۔ لیکن موجوہ حکومت نے مسلمانوں سے تعصب کی بنیاد پر مراٹھا سماج کا رزیرویشن تو قائم رکھا مگر مسلمانوں کا ریزرویشن ختم کردیا تھا۔اس موقع پر بلاواسطہ طور کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیکولرازم کا دم بھرنے والی اور 70 سالوں سے مسلمانوں کے ووٹ لینے والی پارٹیاں اب کہاں ہیں۔ وہ اس مسئلہ پر اپنے موقف کا اظہار کیوں نہیں کر رہی ہیں۔موجوہ حکومت کو یاد دلایا گیا کہ اس ملک کی ترقی کے لیے مسلمانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، انھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اور آج انھیں ناانصافی، تعصب، محرومیوں کا شکار بنایا جا رہا ہے ۔ لیکن یہ صورتحال اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔ اور مسلمان اپنے جائز حق اور انصاف کی لڑائی قانون کے مطابق اور پرامن طور لڑنے کے لیے تیار ہیں۔یو این آئی