پانچ سال سے کروڑوں روپے خرچنے کے باوجود گوجر بستی آکھرن کو بجلی نہ مل سکی

محمد تسکین
 بانہال // سب ڈویژن بانہال کی تحصیل کھڑی کی گوجر بستی آکھرن کو بجلی سے جوڑنے کیلئے 2017 میں شروع کیا گیا کام ابھی تک پا یہ  تکمیل تک نہیں پہنچا ہے اور اْجولا سکیم کے تحت پاور گرڈ کارپوریشن اف انڈیا نے یہ کام ایل این ٹی نامی کمپنی کو سونپا تھا لیکن پانچ سال کا طویل عرصہ گذر جانے کے باوجود اس علاقے میں بجلی کی سپلائی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی ہے اور پورا علاقہ گھپ اندھیرے میں ہے۔آکھرن کی گوجر بستی کے مقامی لوگوں نے کشمیرعظمی ٰکو بتایا کہ ضلع رام بن کی تحصیل کھڑی کے حلقہ اپر ترگام کے گاوں آکھرن میں 2017 میں بجلی کو فراہم کرنے کی منظوری دی گئی تھی اور یہ کام مختلف ہاتھوں سے ہوتے کئی ٹھیکداروں کو سونپا گیا مگر علاقے کی بدقسمتی یہ کہ عرصہ پانچ سال بیت جانے کے باوجود چند کلومیٹر کی لمبائی والا یہ کام ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیجہ یہ کہ ڈیجیٹل انڈیا کے موجودہ دور میں بھی تحصیل کھڑی کی گوجر بستی آکھرن کے درجنوں گھر آج بھی گھپ اندھیروں میں دشوار گذار زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بجلی لگانے والی کمپنی نے جو کھمبے نصب کئے ہیں وہ کنکریٹ کے بجائے سادہ متی میں دبا دیئے گئے ہیں اور حالیہ برفباری کی وجہ سے بجلی چلنے سے پہلے ہی بجلی کے کھمبے اور بجلی کی ترسیلی لائینیں زمین بوس ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھڑی۔ مہو رابطہ سڑک سے آکھرن تک بچھائے جانے والے بجلی کے کھمبوں کو بجری اور سمیٹ کی مدد سے زمین مین لگانا تھا لیکن متعلقہ کمپنی نے شازو نادر ہی کہیں سیمنٹ اور بجری کا استعمال کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سالوں سے بجلی فراہم کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں لیکن بجلی پہنچنے سے پہلے ہی بجلی کے کھمبے اور تاریں تہس نہس ہوکر زمین پر گر آئی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اجولا سکیم کے تحت بجلی کی ٹھیکیدار کمپنی بڑے پیمانے پر خرد برد میں ملوث ہے کیونکہ وضع کئے گئے ٹینڈروں اور زمینی سطح پر زمین آسمان کا فرق واضع طور دکھائی دیتا ہے۔ اپر ترگام تحصیل کھڑی کے مقامی سرپنچ محمد حسین گوجر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ ان کی بار بار کی گذارشات کے باوجود بھی آکھرن ، ہاڑی والا اور دیگر بستیوں کو بجلی فراہم کرنے میں محکمہ بجلی اور اس کی کمپنی کی مسلسل ناکام سے وہ تنگ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی کمپنی کی طرف سے ادھے ادھورے کام کی وجہ سے پانچ سال بعد بھی بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس دوران بچھائی گئی بجلی لائین کے کھمبے اور ترسیلی لائنیں زمین پر آگری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آکھرن اور ہاڑی والا کیلئے دو ٹرانسفارمر منظور تھے لیکن کمپنی ایک ہی ٹرانسفارمر لگانے پر بضد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پچھلے کئی روز سے انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ برفباری کی وجہ سے کچھ کھمبوں کو نقصان پہنچا ہے اور جلد ہی بقایا کام کو مکمل کرکے اس علاقے میں بجلی کی سپلائی کو یقینی بنایا جائیگا۔ اس سلسلے میں محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ آکھرن سمیت دیگر کئی علاقوں میں بجلی پہنچانے کا کام گرد کارپوریشن اف انڈیا نے نجی کمپنی ایل اینڈ ٹی کو سونپا تھا لیکن کمپنی زمینی سطح پر بہت سست روی اور من مرضی سے کام کر رہی ہے اور عوامی مشکلات اور لوگوں کے سوالات کے جوابات محکمہ بجلی کے افسروں کو دینا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آکھرن کے علاوہ نیل اور کسکوٹ کے ہاڑبیر علاقے میں بھی ایسے ہی کام کو سالوں سے چھوڑ کے رکھا گیا ہے اور ابھی تک بجلی کو جوڑا نہیں گیا ہے۔