پانپور،گاندربل رنگ روڑ پر 5برسوں میں صرف 25فیصد کام مکمل ۔5 ہزار995کنال اراضی کی منتقلی،2024میں ڈیڈ لائن پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں

 بلال فرقانی

سرینگر//سرینگر رنگ روڑ ( دائرہ نما سڑک)پروجیکٹ پر پچھلے5برسوں سے کام جاری ہے اور ابھی تک صرف 25فیصد کام ہی مکمل ہوا ہے، جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اہم سڑک جون2024تک تیار ہوگی۔وزیر اعظم ترقیاتی پروجیکٹ کے تحت، نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے 2018 میں جموں اور کشمیر میں بیک وقت ان دائرہ نما سڑکوں پر کام شروع کیا۔ اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نریندر مودی نے 2018 میں رکھا ۔پچھلے سال، منصوبے نے ابتدائی برسوں کے دوران محدود پیش رفت کا سامنا کرنے کے بعد رفتار حاصل کی۔اس سڑک کی تعمیر میں متعدد رکاوٹوں کی وجہ سے، بشمول متاثرہ زمینداروں کو معاوضہ دینے سے متعلق چیلنجوں کا سامنا تھا، تاہم، ان مسائل کو حل کر لیا گیا اور منصوبہ رفتار پکڑنے لگا۔ پروجیکٹ1200کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے تعمیر ہو رہا ہے اور ابھی تک300کروڑ روپے صرف کئے جاچکے ہیں۔

 

 

 

یہ پروجیکٹ کشمیر میں رامکے انفراسٹرکچر لمیٹڈ کو دیا گیا تھا، لیکن کمپنی کی جانب سے90فیصد اراضی کے حصول کی مانگ پورا کرنے میں انتظامی ناکامی نے اس میں تاخیر کی۔حکومت نے رامکے انفراسٹرکچر لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا اور دوبارہ بولی لگانے کے بعد، پروجیکٹ کو ’این کے سی‘پروجیکٹس لمیٹڈ کو 31 مئی 2021 کو الاٹ کیا اور کمپنی نے مئی2021میں اس پر کام شروع کیا۔حکام کے مطابق 42 کلومیٹر طویل دائرہ سڑک کے منصوبے کے لیے 590 ایکڑ سے زائد زرعی اراضی حاصل کی گئی جو پلوامہ، گاندربل اور بڈگام اضلاع میں حاصل کی گئی ،جہاں سے رنگ روڑ گذرے گا۔رنگ روڑ پانپور، واتھورہ، دھرمنہ اور نارہ بل بڈگام سے ہوتے ہوئے سرینگر کے مغربی مضافات میں شادی پورہ اور دودرہامہ گاندربل کو جوڑے گا۔نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اندریش کمار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پروجیکٹ پر کام کبھی نہیں رکا، لیکن کچھ کام جیسے کنکریٹ کا کام کم درجہ حرارت میں نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہاکہ منصوبے کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہے اور یہ جون 2024 تک مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔

 

 

 

انہوں نے کہا’’مزدور منفی درجہ حرارت اور نہ رات کے دوران کام کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے منصوبے میں مزید چار ماہ تک تاخیر ہو سکتی ہے،لیکن منصوبے کو 2024 تک مکمل کرنے کی کوشش کی جائیگی‘‘۔اندریش کمار نے کہا کہ ابتدائی پیش رفت کے باوجود خراب موسم کی وجہ سے کام میں تاخیر ہوئی ، تاہم زیر زمین کام مکمل ہوچکا ہے،اور اب باقی تعمیراتی کام میں وقت نہیں لگے گا۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ اس سڑک کیلئے42 کلومیٹر میں سے 37 کلو میٹرصرف بڈگام میں آتے ہیں۔انکا کہنا تھا’’ہمارا کام گالندر پلوامہ سے شروع ہوا جو سمبل بانڈی پورہ میں ختم ہوگا‘‘۔انکا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں 60.84 کلومیٹر طویل چار لین سیمی رنگ روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ پہلے مرحلے میں گالندر سے ناربل تک سڑک کے 42 کلومیٹر حصے کی تعمیر ہے، جو بانڈی پورہ ضلع کے سمبل علاقے کو گالندر پانپورسے جوڑے گا،جبکہ دوسرے مرحلے میں ناربل سے گاندربل تک 18.84 کلومیٹر اضافی چار لین سڑک کی تعمیر شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا’’منصوبے کی تعمیر میں سڑک کے حصے کے ساتھ ساتھ 400 ڈھانچے بشمول پل بھی شامل ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر پر کام جاری ہے۔ پانپور،گاندربل نیم دائرہ نما سڑک میں5 ہزار995کنال اراضی کی منتقل کی گئی ہے،جس میں سے4 ہزار730کنال زرعی اراضی ہے۔