’پانزتھ ناگ‘ قاضی گنڈ سیاحتی مقام حاصل نہ کرسکا | 1.5 کلومیٹر دائرے میں تقریبا ً500چشمے ہر سال چشموں کی صفائی کا اہتمام

عارف بلوچ

قاضی گنڈ// قاضی گنڈ کے پانزتھ ناگ میں ہر سال کی اس طرح اس سال بھی فش فیسٹول کا اہتمام کیا گیا۔ ہر سال مئی کے مہینے میں سینکڑوں لوگ مچھلی پکڑنے کے لیے ٹوکریوں کیساتھ پانزتھ کا رخ کرتے ہیں اور دن بھر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ مچھلیاں پکڑنے کے ساتھ ساتھ لوگ چشمے کی بھرپور صفائی بھی کرتے ہیں۔ اتوار کے روز بھی سینکڑوں لوگوں نے اس روایت کو قائم رکھتے ہوئے پانزتھ ناگ میں مچھلیاں پکڑنے کا کام کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق، سالانہ روایتی تہوار صرف موسم بہار میں مچھلیاں پکڑنے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ پانی کے جسم کو متحرک اور صاف ستھرا بنانے کے لیے پانزتھ ناگ کو گھاس اور گندگی سے پاک کرنا بھی ہے۔قاضی گنڈ کے مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ پانزتھ گائوں سے 1.5 کلومیٹر کے دائرے میں تقریبا ً500 چشمے ہیں جہاں ہر سال چشموں کی صفائی اور ماہی گیری کا یہ سالانہ میلہ روایتی طور پر منایا جاتا ہے۔مشہور ‘پانزتھ ناگ’ بنیادہ طور پر کشمیری میں’ پانژھ ہتھ‘ یا (500 )چشموں کا علاقہ ہے جس نے ماضی میں ‘پانزتھ فشنگ فیسٹیول’ کی وجہ سے مختلف بین الاقوامی میڈیا کی توجہ حاصل کی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ایک من کی بات ریڈیو پروگرام میں اس موسم بہار کو بھی اجاگر کیا جو اس روایتی سالانہ تہوار کو دنیا کے سامنے لاتا ہے۔’نیلمتا پران’ اور ‘راجاترنگینی’ میں اس کی افسانوی اہمیت کے ساتھ، موسم بہار کے ثقافتی اور تاریخی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ڈورو کے معروف ادیب اور تاریخی و ثقافتی ماہر طارق علی میر نے کہا، “پانزتھ کو سیاحتی مقام کے طور پر نامزد کرنے سے نہ صرف اس کے ورثے کو تسلیم کیا جائے گا بلکہ اس سے خطے میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔”انہوں نے کہا کہ چشمہ تقریباً دو درجن دیہاتوں کے لیے پانی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر کام کرتا ہے اور سرکاری ٹرائوٹ پالنے والے یونٹوں کی میزبانی بھی کرتا ہے۔انہوں نے کہا”یہاں کے لوگ اس سالانہ میلے میں حصہ لے لیتے رہے ہیں، پانزتھ ناگ قاضی گنڈ کی اہم شناخت ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا، “ایسے لوگ ہیں جو دور دراز دیہاتوں سے مچھلیاں پکڑنے، پانزتھ ناگ کی صفائی کرنے یا صرف میلہ دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ ہر سال مئی کے تیسرے یا چوتھے ہفتے میں گائوں والے ایک ایسا دن چنتے ہیں جب سیب، بادام اور اخروٹ کے باغات پھولوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ وہ 500 میٹر کے علاقے میں پھیلے ہوئے پانزتھ ناگ کو صاف کرتے ہیں، اور مچھلیاں بھی پکڑتے ہیں، یہ عمل انہیں اپنے آبائو اجداد سے وراثت میں ملا ہے۔مچھلیوں کو پکڑنے اور صفائی کرنے کا یہ عمل موسم بہار کو سال بھر صاف پانی کے بہا ئو کوفراہم کرنے کے قابل بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانزتھ ناگ، قاضی گنڈ کے 25 سے زیادہ دیہاتوں کو سیراب کرتا ہے اور پینے کا پانی فراہم کرتا ہے جن میں ویسو، نسو، بونیگام، باباپورہ، نیوا، وانپورہ اور پنزتھ شامل ہیں۔انہوں نے کہا’ اس دن لوگ قبرستانوں میں بھی جاتے ہیں جہاں وہ اپنے مرنے والے رشتہ داروں کی قبروں پر پھول نچھاور کرتے ہیں، یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں مرحوم کی روح کو سکون ملتا ہے‘‘۔گاں والوں نے مطالبہ کیا کہ قاضی گنڈ میں واقع گائوں پانزتھ جو سری نگر جموں قومی شاہراہ سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، کو ترقی دے کر ایک سیاحتی مقام بنایا جائے جس سے مقامی لوگ روزی روٹی کما سکیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 75 نئے سیاحتی مقامات کا اعلان کیا تھا اور پانزتھ ان میں سے ایک تھا۔لیکن فی الحال ان تمام سالوں کے دوران گائوں میں سوائے ایک پارک کو فعال کرنے کے علاوہ کوئی ترقی نہیں کی گئی۔